انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 90 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 90

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث سورة سبأ جاتے ہیں۔اس واسطے کسی ایک شخص کا یہ کہنا کہ میں صراط مستقیم پر قائم ہو گیا ہوں، یہ کافی نہیں ہے، یہ اس لئے کافی نہیں کہ جو قریب ترین فتنہ اس کی زندگی میں ہے وہ اس کے گھر میں موجود ہے۔اس واسطے آئندہ نسلوں کی صحیح تربیت کرنا ان نسلوں کی بھلائی میں بھی ہے اور اپنی بھلائی بھی یہی تقاضا کرتی ہے کہ انسان فتنے سے اپنے آپ کو بچائے اور خدا تعالیٰ کے غضب سے محفوظ رہنے کی کوشش کرے اور جو پیارا سے حاصل ہوا وہ پیارا سے اور اس کے خاندان کو مرتے دم تک اس دنیا میں حاصل رہے تا خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں گزرنے والی ابدی زندگی کے وہ مستحق بنیں۔سورۃ التحریم میں ہی نویں آیت میں ہے۔یااَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا (التحریم: 9) حکم تھا کہ خود اپنے نفسوں اور اپنے اہل کو بچاؤ، ان کی حفاظت کی کوشش کرو اور یہاں وہ طریقہ بتایا گیا اس آیت میں بشارت ہے ) اور اس کی ابتدا یوں ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف خالص رجوع کرو۔تو بہ کرو اور تو بہ پر قائم رہو۔تو بہ زندگی کے چند لمحات کی کیفیت کا نام نہیں۔تو بہ ساری زندگی کے سارے ہی لمحات کی ایک خاص کیفیت کا نام ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہوئے ، اس کی طرف جھکتے ہوئے ،غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ، ندامت سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ عاجزانہ اس سے مغفرت چاہتے ہوئے زندگی گزارنا اس کا نام ہے تو بہ۔اس کی دوشاخیں ہیں آگے ، عقیدہ اور عملاً، دونوں اس میں شامل ہیں یعنی خدا تعالیٰ کا عرفان رکھنا اور اس کی عظمتوں اور اس کے نور کو اس کے حسن کو سمجھتے ہوئے اور شناخت کرتے ہوئے اور اس سے دوری کے مضرات کو اور برائیوں کو جانتے ہوئے ان سے بچنے کی کوشش کرنا، یہ عقیدہ تو بہ ہے یعنی آدمی کا یہ عقیدہ ہو کہ اگر میں خدا سے کٹ گیا اور تو بہ کا تعلق میرا اس سے نہ ہوا تو میں ہلاک ہو گیا لیکن اسلام محض فلسفہ نہیں۔حقیقی فلسفہ اسلام ہی ہے، اس میں شک نہیں لیکن اسلام محض فلسفہ نہیں۔یہ تو ہماری زندگی کا ایک حسین لائحہ عمل ہے جو ہمیں بتایا گیا جس پر چل کر ہماری زندگی خدا تعالیٰ کے نور سے منور ہوتی اور اس کے حسن سے حسن حاصل کرتی ہے۔تو فرمایا جوحکم ہے قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا کا طریق تمہیں بتاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہر آن خالص طور پر کا ملتا رجوع کرتے رہو، اس کا نتیجہ نکلے گا۔اس مخلصانہ تو بہ کا پہلا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جو تمہاری بدیاں ہیں (یہ اس آیت سے میں نے مضمون اٹھایا ہے۔میں عربی کے الفاظ نہیں