انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 90 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 90

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث سورة الانعام ہیں تو اس اعلان میں اس کتاب کی تصدیق بھی ہو رہی ہوتی ہے یعنی منسوخ کا اعلان خود تصدیق کر رہا ہوتا ہے۔اس بات کی کہ وہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی نازل کی گئی تھی جسے اب اللہ تعالیٰ منسوخ کر رہا ہے۔دوسرے اس میں یہ بتایا کہ جو جو بنیادی صداقتیں پہلی کتب میں تھیں وہ تمام کی تمام ہم نے قرآن کریم میں جمع کر دی ہیں۔مِثْلِهَا ، میں اسی طرف اشارہ ہے۔مغل اس لئے کہا۔پہلے مجمل طریق پر یہ صداقتیں بیان ہوئی تھیں اور حکمت بتائے بغیر۔لیکن اب وہ کامل اور مکمل شکل میں قرآن کریم میں رکھ دی گئی ہیں بالکل وہی نہیں۔کیونکہ بالکل وہی ہوں تو اس سے قرآن کریم میں نقص لازم آتا ہے لیکن ہیں ویسی ہی مگر زیادہ اچھی شکل میں اور زیادہ تفصیل کے ساتھ۔۔۔۔یہ ایک معنی مُصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ کے ہیں۔دوسرے معنی اس کے یہ ہیں کہ قرآن کریم ایک ایسی عظیم الشان کتاب ہے کہ اس کے متعلق دنیا کی ہر شریعت نے پیشگوئی کی تھی اور بشارت دی تھی اور انہی پیشگوئیوں کے مطابق قرآن کریم اپنے وقت پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔تو فرمایا کہ یہ ایک عظیم کتاب ہے۔اتنی عظیم الشان کہ کوئی ایسی شریعت دنیا کے کسی خطہ میں نازل نہیں کی گئی۔جس کے نبی نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ پر نازل ہونے والے قرآن (کتاب عظیم) کی بشارت نہ دی ہو۔اور کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے اپنی قوم کو اس طرف متوجہ نہ کیا ہو کہ جس وقت بھی اور جہاں بھی خدا کا وہ برگزیدہ رحمة للعلمین کی شکل میں تمہارے سامنے آئے تو اس کو قبول کر لینا۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کتاب اسے دی جائے گی وہ میری ہر کتاب (شریعت) سے بہتر اور افضل اور اعلیٰ ہوگی۔کیونکہ میری ہر پہلی کتاب میں چند برکات ہیں اور جو کتاب اسے دی جائے گی وہ مبارک جامع ہوگی تمام برکات کی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جیسا کہ خود قرآن مجید نے کہا ہے دعا فرمائی اور بشارت بھی دی کہ ایسا نبی جو الکتاب اور الحکمۃ سکھانے والا ہو وہ مبعوث ہوگا۔اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے متواتر نبی کے بعد نبی پیدا ہوا اور ان سب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پیشگوئی فرمائی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس گناہ سوز شریعت کی ان الفاظ میں بشارت دی