انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 91
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۹۱ سورة الانعام کہ اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی۔اور اس بشارت کو موسیٰ علیہ السلام نے بار باردہرایا تا کہ ان کی امت گمراہ نہ ہو جائے۔پھر یسعیاہ نبی نے حضرت سلیمان علیہ السلام نے حضرت عیسی علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لوگوں کو بشارت سنائی اور ہشیار بھی کیا۔تا کہ جب وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) پیدا ہو تو لوگ ایمان سے محروم نہ ہو جائیں۔پھر بنی اسرائیل کی شریعت کے علاوہ جو شریعتیں محفوظ ہیں یا ان کا کچھ حصہ محفوظ ہے جب ہم ان کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی بشارات موجود ہیں۔حضرت زرتشت نے بھی آپ کی بشارت دی۔ہندوؤں کی کتب میں بھی یہ بشارت پائی جاتی ہے اور بعض جگہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ایک فرزند جلیل یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھی بشارت دی ہے۔تو قرآن کریم کا چودہ سو سال پہلے یہ دعویٰ کہ وہ مُصدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ ہے۔یعنی پہلی پیشگوئیوں کے مطابق دنیا کی طرف بھیجا گیا ہے۔خود ایک عظیم صداقت اور اس کی حقانیت پر ایک ز بر دست دلیل ہے۔کیونکہ نزول قرآن کے وقت بہت سی کتب سماوی ایسی تھیں جن کے متعلق کسی کو کچھ بھی پتہ نہ تھا۔لیکن اب وہ باتیں ظاہر ہورہی ہیں اور چونکہ اب اشاعت کتب کی بہت سی سہولتیں ہوگئی ہیں اس لئے بہت سی چھپی ہوئی اور نا معلوم باتیں ہمارے سامنے آ رہی ہیں۔اور ہر نئی بات جو ہمارے سامنے آتی ہے وہ قرآنِ کریم کی ہی تصدیق کر رہی ہوتی ہے کہ قرآن کریم کا بھیجنے والا یقیناً أَصْدَقُ الصَّادِقِین ہے۔جو بات وہ کہتا ہے سچی ہوتی ہے۔اس کے متعلق کسی کو کبھی بھی شبہ کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔علم تو بڑھ رہا ہے، اگر کبھی آئندہ کوئی سابقہ شریعت ( جو اس وقت انسان کے سامنے نہیں) انسان کے سامنے آجائے تو یقیناً اس میں بھی ہم پائیں گے کہ ایک عظیم الشان نبی آنے والا ہے۔پس فرمایا کہ یہ کتاب جامع ہے تمام برکات کی۔اس لئے کہ یہ مُصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ ہے۔پہلی تمام صداقتوں کی تصدیق کرتی ہے اور پہلی پیشگوئیوں کے مطابق اس کا نزول ہوا ہے۔ہر نبی کو یہ فکر تھی کہ جو عظیم الشان نبی (محمدصلی اللہ علیہ وسلم ) آنے والا ہے کہیں اس کی امت غلطی سے اس کا انکار کر کے خدا تعالیٰ کے غضب اور قہر کا مورد نہ بن جائے اور ان سب انبیاء کو اس چیز سے دلچسپی تھی۔