انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 89 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 89

۸۹ سورة الانعام تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث (لیکن کتب سابقہ کے متعلق ممبرك کا لفظ استعمال نہ ہو سکتا تھا) اور اس طرح ہمیں یہ بتایا کہ پہلی امتیں اپنی پوری جدوجہد، اپنے پورے مجاہدہ ، اپنی پوری محنت اور اپنی پوری کوشش اور ایثار اور اپنے پورے جذ بہ قربانی کے باوجود اس روحانی مقام رفعت تک نہ پہنچ سکتی تھیں جس مقام رفعت تک تم پہنچ سکتے ہو۔کیونکہ تمہیں ایک کامل کتاب دی گئی ہے جس کی اتباع کے نتیجہ میں تم کامل برکات کو حاصل کر سکتے ہو۔کامل برکات کے حصول کا امکان تمہارے لئے پیدا ہو گیا ہے۔اتنی ارفع اور اتنی اعلیٰ کتاب کے ملنے کے بعد بھی اگر تم کو تا ہی کرو اور اس طرف متوجہ نہ ہو اور خدا تعالیٰ کے شکر گزار بندے بن کر اس کی اس نعمت سے فائدہ نہ اٹھاؤ تو تمہارے جیسا بد بخت دنیا میں کوئی نہیں ہوگا۔پس فرمایا کہ یہ کتاب تمام برکات کی جامع ہے اور تمام برکات کا حصول تمہارے لئے ممکن بنادیا گیا ہے۔اس لئے اٹھو! اور کوشش کرو اور محنت کرو اور قربانیاں دو اور ایثار دکھاؤ تا کہ تم ان تمام برکات اور فیوض کو حاصل کر سکو۔دوسرا امر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے متعلق یہاں یہ بیان فرمایا۔مُصَدِّقُ الَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ - دراصل یہ ملوک کی وجہ بتائی ہے کہ یہ کتاب تمام برکات کی جامع کیوں ہے؟ اس لئے کہ پہلی کتب میں جو بھی صداقتیں پائی جاتی تھیں ان سب کو اس نے اپنے اندر جمع کیا ہوا ہے بلکہ ان سے کچھ زائد بھی ہے۔اس لئے یہ مبارک ہے۔ہر وہ برکت جو پہلی کسی کتاب کی ہدایت سے حاصل کی جاسکتی تھی وہ اس کتاب سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے کیونکہ وہ ہدایت اور بنیادی صداقت جو اس کے اندر تھی اس میں بھی پائی جاتی ہے۔لیکن جوز ائد چیزیں اس میں ہیں وہ پہلی کتب میں نہیں تھیں۔اس لئے ان زائد احکام پر عمل کر کے جو برکتیں تم حاصل کر سکتے ہو۔وہ لوگ جن پر پہلی کتب نازل کی گئی تھیں انہیں حاصل نہیں کر سکتے تھے۔مُصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ “ یہ قرآن پہلی کتب کی تصدیق کرتا ہے۔میں جو تصدیق کا ذکر ہے اس کے متعلق یا درکھنا چاہیے کہ تصدیق کا ایک طریق قرآن کریم نے یہ بیان فرمایا ہے۔مَا نَنْسَحْ مِنْ آيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۖ أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (سورة البقرة : ۱۰۷) کہ جب بھی ہم کسی پیغام کو منسوخ کریں یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسا پیغام ہم دنیا میں لے آتے ہیں۔اس آیت میں تین باتیں بیان ہوئی ہیں۔ایک یہ کہ پہلی کتب کی بعض باتوں کو بعض ہدایتوں کو قرآن کریم نے منسوخ کر دیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ یہ اعلان فرماتا ہے کہ میں نے پہلے جو کتاب بھیجی تھی اس کی یہ یہ ہدایتیں منسوخ کی جاتی