انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 88
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۸۸ سورة الانعام گا۔میں نے سوچا تو یہ تینوں باتیں میرے ذہن میں آئیں۔جب میں سورۃ کے آخر میں پہنچا مجھے یہ دیکھ کر لطف آیا کہ وہ تین باتیں جو اس وقت میرے ذہن میں آئی تھیں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام کے آخر میں وہی تین نتیجے مبارک کے ) وضاحت کے ساتھ نکالے ہیں۔اس پر میرا خیال اس طرف گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تفسیر کے متعلق جو یہ ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ قرآن کریم خود اپنا مفسر ہے۔یعنی قرآن کریم کی بعض آیات دوسری آیات کی تفسیر کرتی ہیں اور وہی تفسیر بہتر اور اچھی اور مفید اور سب سے زیادہ صحیح تسلیم کی جاسکتی ہے جو قرآن کریم نے خود بیان فرمائی ہو اگر چہ ہر ایک کا دماغ اتنی پہنچ نہیں رکھتا کہ معلوم کر سکے کہ قرآن کریم کی ایک آیت دوسری آیت کی تفسیر کے خلاف نہیں یا لغت عرب ہی خود اس تفسیر کے خلاف نہیں۔لیکن بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ بہترین تفسیر وہ ہے جو قرآن کریم خود بیان کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ بھی کہا یا لکھا وہ قرآن کریم کی ہی تفسیر ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ ہم میں سے بعض بعض چیزوں یا بعض مضامین کے متعلق کچھ پریشان ہوں کہ ہمیں پتہ نہیں چل رہا کہ یہ قرآن کریم کی کس آیت کی تفسیر ہے۔لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ ارشاد فرمایا وہ لاکھوں احادیث جو امت مسلمہ نے بڑی محنت اور جد و جہد سے محفوظ کیں) سب قرآن مجید ہی کی تفسیر ہیں لیکن کم لوگ ہیں جو یہ بتا سکیں کہ کون سا ارشاد کس آیت کی تفسیر ہے۔جو بڑے بڑے عالم ہیں وہ تو جانتے ہیں لیکن ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔چونکہ یہ اس نکتہ کی بڑی واضح مثال تھی اس لئے میں نے اس کا یہاں ذکر کر دیا ہے۔تو اس خیال سے کہ میں اس آیت پر خطبہ دوں گا۔میں نے اس پر غور شروع کیا اور مذکورہ بالا تین باتیں میرے ذہن میں آئیں اور وہی تین باتیں مُبارک کی تفسیر کرتے ہوئے سورۃ انعام میں ہی آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرما دیں۔اللہ تعالیٰ سورۃ انعام آیت ۱۵۶ میں فرماتا ہے وَهُذَا كِتَابٌ اَنْزَلْنَهُ مُبْرَكَ یہ کتاب جو میں تم پر نازل کر رہا ہوں۔یہ تمام برکات کی جامع ہے فَاتَّبِعُوہ اس لئے تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ تم اس کی کامل اتباع کرو۔وَاتَّقُوا اور تقویٰ کی جو باریک راہیں یہ تمہیں بتاتی ہیں تم ان پر گامزن رہو۔لعلكم تُرْحَمُونَ تا کہ اس طرح پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے دروازے تم پر کھولے جائیں۔پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرمایا کہ قرآن کریم جامع ہے تمام برکات روحانی کا