انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 87
تفسیر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۸۷ سورة الانعام کی طرف دوڑ پڑتی ہیں اور تھوڑی دیر میں صحابہ (خصوصاً انصار ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے اور دشمن کو شکست ہوگئی۔“ (دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۲۲۱، ۲۲۲) تو اتباع کا یہ مفہوم صحابہ نے سمجھا تھا۔اتباع کا یہ مفہوم ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اگر نفس کو اونٹوں کی طرح قربان کرنا پڑے یا رشتہ داروں کو اونٹوں کی طرح قربان کرنا پڑا یا بیوی بچوں کو قربان کرنا پڑا اس دنیا کے اموال اور اس کے آرام اور لذتوں اور مسرتوں کو قربان کرنا پڑا تو ہم نے خدا تعالیٰ کے برلبیک کہتے ہوئے ہر چیز پر چھری پھیر دینی ہے اور خدا کی آواز جدھر بھی اور جس طرف بھی ہمیں پکارے ہم نے اس کی اتباع کرتے ہوئے اس طرف چلے جانا ہے۔اس رنگ میں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنی ہے۔یہ نہیں کرنا کہ دعوئی تو یہ ہے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں سے ہیں اور عمل یہ ہو کہ معمولی معمولی رسموں اور بدعتوں کو بھی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں اور حالت یہ ہو کہ مغربی تہذیب کے گندے اور بداثرات سے نجات پانے میں بھی تکلیف محسوس کریں۔یہ نہیں ہوگا۔خطابات ناصر جلد اول صفحه ۲۳۲ تا ۲۳۵) آیت ۱۵۶ وَهُذَا كِتَبُ اَنْزَلْنَهُ مُبْرَكَ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ ترحمون اس آیت پر میں نے جب غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ اگر یہ قرآن كِتَابٌ مُبر ہے اور یقیناً قرآن كِتَابٌ مُبر ہے اور اس نے تمام برکات روحانی کو اپنے اندر جمع کیا ہوا ہے تو پھر عقلاً تین نتیجے نکلتے ہیں۔اول یہ کہ اس کتاب کی کامل اتباع کی جائے۔دوسرے یہ کہ اس کتاب نے تقویٰ کی جو باریک راہیں ہمیں بتائی ہیں ان پر گامزن رہا جائے اور تیسرے یہ کہ اگر اور جب ہم یہ کر لیں تب خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے دروازے ہم پر کھل سکتے ہیں۔لیکن اگر ہم ایسا نہ کریں تو باوجود اس کے کہ یہ کتاب تمام برکات روحانی کی جامع ہے ہم اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔میں جب سورۃ الانعام کی تلاوت کر رہا تھا تو مجھے خیال آیا کہ میں اس آیت کے متعلق خطبہ دوں