انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 78 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 78

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۷۸ سورة الانعام جبر کا اعلان نہیں ہوا بلکہ ہر شخص نے اپنی مرضی سے اپنی رضا کے ساتھ یہ اعلان کرنا ہے کہ میں مسلمان ہوں، مسلمان ہوتا ہوں، اسلام کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے انشراح صدر کے ساتھ تیار ہوں۔پس خدا تعالیٰ نے انشراح صدر کے جو سامان پیدا کئے اس میں جبر نہیں تھا، حالات ایسے پیدا کئے گئے تھے کہ اگر کوئی شخص خود اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر چلنے کے لئے اور اس کے قرب کی راہوں کو اختیار کرنے کے لئے تیار ہو تو اس کا اپنا نفس اور اس کا اپنا شیطان اس کی راہ میں روک نہ بن جائے۔یہاں فرمایا ہے جو بھی انشراح صدر کے ساتھ اپنے اسلام کا اعلان کرے اور اعمالِ صالحہ احسن طریق پر بجالائے وَهُوَ مُحْسِن تو اس کے رب کے ہاں اس کے لئے بدلہ مقرر ہے اور ایسے مسلمانوں کو جو خود اپنی مرضی سے بشرح صدر اسلام کی ذمہ داریاں قبول کرتے ہیں نہ آئندہ کا کوئی خوف ہوگا ان لوگوں کے لئے (جیسا کہ میں آگے بتاؤں گا بہت سی بشارات قرآن کریم میں ہیں ) اور نہ وہ کسی سابق نقصان اور لغزش پر غمگین ہوں گے کیونکہ ان کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور مستقبل الہی بشارات کی خوشیوں سے معمور ہوگا۔۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۱۴۳، ۱۴۴) آیت ۱۴۸ فَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ رَّبِّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ وَلَا يردُّ بَأْسُه عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ۔قرآن عظیم نے ہمیں بہت سی تعلیمات دی ہیں۔ہمیں بار بار اور کھول کھول کر بتایا ہے کہ بد بداعمالیوں اور گناہوں سے بیچ کر ہی ہم اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔اسی طرح بہت سی ایسی تعلیمات بھی دی ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہو کر ہم اللہ تعالیٰ کے پیار، اس کی محبت اور اس کی رضا کو حاصل کر سکتے ہیں۔میں نے چھوٹی سی آیت جو ابھی تلاوت کی ہے، اس میں ہر دو پہلوؤں کے متعلق ہمیں ایک بات بتائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے رسول ! اگر نوع انسان میں سے ایک گروہ تیری تکذیب کرے اور تصدیق نہ کرے تو اس سے تیری بعثت کے مقصد پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ تیرے ماننے والے بھی موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمتوں کے مورد ہیں۔یہ عربی زبان کا محاورہ ہے کہ ایک لفظ استعمال