انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 77 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 77

سورة الانعام تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث کے لئے قرآنی آیات کو کھول کر بیان کر دیتا ہے وہ مطہر نفس دنیا میں آکر قرآن کریم کے اسرار کو حاصل کرتے اور پھر ان کا درس دیتے ہیں۔اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ علم و علم حقیقی کے کامل حل ہیں احکام قرآنی کو کھول کر بیان کرتے ہیں پس معلم تو اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے لیکن اس دنیا میں اگر کوئی کامل ظل معلم کی حیثیت میں پیدا ہوا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۴۱۸) ج آیت ۱۲۶ فَمَنْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ وَ مَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيْقًا حَرَجًا كَانَمَا يَضَعَدُ فِي السَّمَاءِ كَذلِكَ يَجْعَلُ اللهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اللہ تعالیٰ سورۃ الانعام میں فرماتا ہے۔فَمَنْ يُرِدِ اللهُ اَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ جسے اللہ ہدایت دینے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے، شرح صدر پیدا ہوتا ہے۔قرآن کریم کے محاورہ میں شرح صدر کا پیدا ہونا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبر کرنا ایک چیز نہیں بلکہ متضاد ہیں۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَينَ بِالْإِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا (النحل : ١٠٧) سورۃ انعام کی آیت کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کا فرکو جبراً کافر اور گمراہ کو جبراً گمراہ بناتا ہے بلکہ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتا ہے اپنی رحمت سے ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ وہ کسی قسم کے گند میں، گندی زیست میں نہ پڑ جائے ، گندے اخلاق اور اخلاقی لحاظ سے بدصحبت میں نہ چلا جائے ، اس کی عادات خراب نہ ہو جائیں کہ اس کے لئے دینِ اسلام کی پابندیاں اٹھانا مشکل ہو جائے ،سینہ میں انقباض پیدا ہو جائے اور بشاشت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کا نباہنا اس کے لئے قریباً ناممکن ہو جائے تو جبر نہیں، رحمت ہے اور اس کے لئے یہ اعلان کیا گیا کہ فمن يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لإسلام اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اسلام کے لئے شرح صدر پیدا کرتا ہے۔سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة: (۱۱۳) جو بھی انشراح صدر کے ساتھ اپنے اسلام کا اعلان کرے۔من اسلم یہ اعلان کہ میں مسلمان ہوں اور اسلام کا پابند رہوں گا یہاں کسی