انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 79
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۷۹ سورة الانعام ہوتا ہے اور اس کے متضاد معنے بھی وہاں موجود ہوتے ہیں۔اس لفظ کا سیاق وسباق بتاتا ہے کہ اس کے دوسرے معنوں کو بھی مد نظر رکھا جائے۔پس اگر چہ اس آیہ کریمہ میں فَإِنْ كَذَّبُوكَ کہا ہے لیکن کذب اور صدق عربی زبان میں ایک دوسرے کے مقابلے میں استعمال ہوتے ہیں۔کذب کے معنے ہیں جھٹلانا اور کذب کے معنے ہیں جھوٹ کی طرف منسوب کرنا۔یہ قولاً بھی ہے اور اعتقادا بھی۔یعنی وہ اعتقاد جس کے نتیجہ میں عمل پیدا ہوتا ہے اس معنی میں بھی اسے استعمال کرتے ہیں اور جیسا کہ میں ابھی بتاؤں گا اس آیت میں جو بات بیان ہوئی ہے وہ ہر دو پر حاوی ہے یعنی کذب کے ساتھ صدق کے معنے بھی مضمر ہیں یعنی اپنے قول سے بھی تصدیق کرنا اور اعتقاد بھی ایسا ہی پختہ رکھنا کہ جس کے نتیجہ میں عمل پیدا ہوتا ہے۔پس جہاں یہ بیان ہوا کہ نوع انسان میں سے جن کی طرف قرآن عظیم جیسی کامل اور مکمل کتاب نازل ہوئی اور یہی وہ کامل اور مکمل شریعت ہے جسے انسانِ کامل حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے مگر ان لوگوں کا ایک حصہ اسے جھوٹ کی طرف منسوب کرتا ہے اور چونکہ لوگ اسے جھوٹ سمجھتے ہیں اس لئے کہتے ہیں ہم اس پر عمل نہیں کریں گے۔فرمایا ایک دوسرا گروہ ہے جو تصدیق کرتا ہے قول سے بھی کہ خدا تعالیٰ کا ایک سچا اور کامل رہبر ہماری طرف آ گیا اور دل سے بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں اور قرآنی ہدایات کے مطابق اعمال بجالاتے ہیں۔چونکہ یہ دوسرا گروہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی رحمت کا تعلق ہوتا ہے اس لئے جو اُن کی جزا تھی اُسے پہلے بیان کر دیا اور فرمایا فَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ رَّبِّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ -۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے عربی محاورہ خود لفظ کے معنی اور مفہوم کو متعین کرتا ہے۔اس لحاظ سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اے رسول ! وہ لوگ جو تکذیب نہیں کرتے بلکہ تصدیق کرتے ہیں وہ لوگ جو صدق دل سے تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تیری شریعت کو حقیقتا سچی اور کامل ہدایت سمجھتے ہیں اُن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سلوک ہوتا ہے اور اُن کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے جلوے ظاہر ہوتے ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ذُو رَحْمَةٍ واسعة ہے لیکن وہ دوسرا گروہ جو تکذیب کرتا ہے اور اسلام کو سچا دین نہیں سمجھتا اور چونکہ سچا نہیں سمجھتا اس لئے اس پر عمل بھی نہیں کرتا تو مکڈ بین کے اس گروہ کو یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ لَا يُرَدُّ بَأْسُه عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ کہ جو لوگ مجرم ہیں اور