انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 619
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۶۱۹ سورة القصص واپس لوٹ کر آئے چنانچہ اس غرض کے لئے دوست دعائیں کر رہے ہیں کوشش کر رہے ہیں اور اموال کی قربانی دے رہے ہیں اور یہ خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اس قسم کا گروہ دنیا میں پیدا ہو گا۔قرآن کریم نے جب یہ کہا تو قرآن کریم کے نزول کے بعد بھی ان دو گروہوں کا ذکر اس کے اندر آ سکتا ہے۔ماضی کا تو حوالہ اس میں نہیں دیا گیا ویسے تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر نبی کے وقت ایسا ہی ہوتا آیا ہے لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کی بلندشان کے باوجود اور قرآن کریم کی کامل اور مکمل شریعت و ہدایت کے باوجود کچھ لوگ عقل سے کام نہیں لیں گے اور وہ شیطان کی طرف دوڑیں گے۔بجائے اس کے کہ خدائے رحمان کی طرف ان کی حرکت ہو اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق ان کے قدم زمین پر پڑیں وہ شیطان کے گروہ کی طرف چلیں گے لیکن ایک دوسرا گروہ بھی ہے جو ایسا نہیں ہوگا۔وہ ایسے لوگ ہوں گے جو عقل رکھتے ہوں گے، جو ایمان رکھتے ہوں گے، جو خدا تعالیٰ پر توکل رکھتے ہوں گے، جو سب کچھ کرنے کے بعد بھی یہ سمجھتے ہوں گے کہ انہوں نے کچھ نہیں کیا۔جو آخری چیز ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے جس کے نتیجہ میں انسان چھوٹا ہو یا بڑا خدا کی رضا کی جنتوں میں داخل ہوتا ہے۔یہ گروہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر اب تک امت مسلمہ میں پیدا ہوتا رہا ہے۔ایسے لوگوں نے بڑی قربانیاں دیں اور انہوں نے اپنی زندگیاں بڑی فراست سے گزاریں اور خد اس کی رضا اور اس کے پیار کو حاصل کرنے اور دنیا کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانے کے لئے انتھک کوشش کی تاکہ ساری دنیا اللہ تعالیٰ کے پیار اور اس کی رضا کو حاصل کرے۔شروع سے ہی ایسا گروہ چلا آرہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو بڑی کثرت سے ہمیں نظر آتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی جانوں کی کوئی پرواہ نہیں کی ، انہوں نے اپنے آراموں کی کوئی پرواہ نہیں کی ، انہوں نے اپنے عزیزوں کی ، اپنے رشتہ داروں کی اور دوستوں کی کوئی پرواہ نہیں کی۔صرف ایک ہی ہستی تھی جس پر وہ مر مٹے تھے اور ایک ہی نعرہ تھا جو ان کی زبان سے نکلتا تھا اور وہ تھا مولا بس۔اللہ مل جائے تو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہتی۔( خطبات ناصر جلد هفتم ۶۵ تا ۷۰)