انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 618
۶۱۸ سورة القصص تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بعض لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔وہ سوچتے نہیں کہ یہ اتنا بڑا کارخانہ ہے جسے خدا تعالیٰ نے باطل تو نہیں بنایا تھا۔انسانی زندگی کا کوئی مقصد ہونا چاہیئے۔اس کی کوئی غرض ہونی چاہیئے انسانی پیدائش کا کوئی مقصد ہونا چاہیئے۔چنانچہ انسان کو مخاطب کر کے یہ اعلان کردیا گیا کہ ہر دو جہان کی ہر چیز بلا استثناء اس کی خدمت پر لگادی گئی ہے۔کتنا بڑا مقام ہے جو انسان کو دیا گیا ہے۔وہ اپنی ماں کے پیٹ سے تو یہ چیزیں لے کر نہیں آتا یہ خدا تعالیٰ کی عطا ہے۔یہ اس کی رحمت ہے حتی کہ اس نے ان ستاروں کو بھی جن کی روشنی ابھی ہم تک نہیں پہنچی انسان کی خدمت پر لگا رکھا ہے۔سائنس سے تعلق رکھنے والے لوگ ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ایسے ستارے بھی ہیں جن کی روشنی ابھی ہم تک نہیں پہنچی اور ایسے ستارے بھی ہیں جن کی روشنی پچھلے پندرہ بیس سال میں ہماری دنیا تک پہلی بار پہنچی ہے ان سب کو خدا نے ہماری خدمت پر لگایا ہوا ہے چنانچہ صحیح جہت کی طرف سائنس کی ہر ترقی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مخلوق خدا انسان کی ایک نئی شکل میں خدمت کررہی ہے۔ہر سائنسی انکشاف (Scientific Discovery) سے پتہ لگتا ہے کہ کتنا عظیم اعلان تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمایا تھا:۔وووو وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجائیه : ۱۴) لیکن پھر بھی ان سائنسدانوں میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے اور اس دنیا کے متاع اور اس کی زینت کو کافی سمجھتے ہیں اور بجائے اس کے کہ اس دنیوی متاع اور اس کی زینت کے نتیجہ میں اُخروی متاع کے سامان پیدا کرنے کے لئے اور اُخروی زندگی کے حسن کے حصول کے لئے کوشش کرتے ضَلَّ سَعْيُهُم في الحيوةِ الدُّنْيَا (الكهف : ۱۰۵) دنیوی عیش و آرام میں پڑ جاتے ہیں جو کہ وقتی ہے اور اس میں حقیقی لذت بھی نہیں مگر پھر بھی ایسے لوگ اپنا سب کچھ دنیوی لذتوں کی خاطر برباد کر دیتے ہیں اور خدا سے ڈوری کی راہیں ان کو خدا کے غضب کی جہنم کی طرف لے جاتی ہیں لیکن وہ لوگ بھی ہیں جو عقل رکھتے ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اس شریعت پر جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کے ہاتھ میں دی ہے، ایمان لائے ہیں اور جن کی زندگیاں اسلام کی خاطر ہیں۔ان کی زندگی کا ہر لمحہ اس کوشش میں صرف ہوتا ہے کہ جو بھوکی اور پیاسی دنیا ہے اور خدا اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دوری کی زندگی گزار رہی ہے، وہ اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف