انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 620
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۲۰ سورة القصص آیت ۸ وَابْتَغ فِيمَا الكَ اللهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَ اَحْسِنُ كَمَا اَحْسَنَ اللهُ إِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ ) پس ایمان بالآخرۃ نہایت ضروری حکم ہے اور اس کے بغیر الہی سلسلے یا جماعتیں یا ان کے افراد بشاشت کے ساتھ قربانیاں نہیں دے سکتے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک جگہ فرمایا: وَابْتَغ فِيمَا أَنكَ اللهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ (القصص : ۷۸) یہ میں نے آیت کا ایک ٹکڑا لیا ہے اس سے آگے ویسے یہ بھی ہے۔وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَ اَحْسِنُ كَمَا اَحْسَنَ اللهُ إِلَيْكَ الا۔لیکن میں نے پہلا ٹکٹر الیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ ہم نے تمہیں جو کچھ دیا ہے ( فيما اشك ) اس کے ذریعہ آخرت کی نعماء کے حصول کی کوشش کرو ( و ابتغ ) اس دنیا کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے ہماری یہ زندگی ہمارا جسم اور اس کی طاقتیں، ہمارا ذہن اور اس کی طاقتیں ہماری روح اور اس کی طاقتیں یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے گھر سے تو کچھ نہیں لائے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مادی اسباب جو تمہیں دیئے گئے ہیں اور قوتیں اور استعداد میں جو تمہیں عطا ہوئی ہیں ان کے ذریعہ سے تم دار آخرت کی نعماء کے حصول کی کوشش کرو۔پس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ماننا ضروری ہے آخرت پر ایمان لانا ضروری ہے اس کے بغیر الہی سلسلے نہ قربانیاں دے سکتے ہیں اور نہ وہ نتائج پیدا ہو سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے پیدا کرنا چاہتا ہے۔صحابہ کرام کی زندگی پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تو انہیں ایمان بالآخرت میں بھی یکتا پاتے ہیں میں نے کئی بار بتایا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے لئے سونے والے کمرے سے بیٹھنے والے کمرے تک جانا شاید دل میں کچھ کوفت کا احساس پیدا کرے مگر ان لوگوں کے لئے اس دنیا سے نکل کر اس دنیا میں چلے جانا کوئی کوفت نہیں پیدا کرتا تھا وہ ہنستے کھیلتے اللہ تعالیٰ کی راہ میں سب کچھ قربان کر دیتے حتی کہ اپنی جان کی بازی تک لگا دیتے تھے ان کے نزدیک زندگی اور موت کے درمیان جو ایک بار یک سی لکیر ہے وہ نہ ہونے کے برابر تھی۔عجیب شان تھی ان لوگوں کی (رضوان اللہ علیہم ) اور عجیب شان ہے مخلصین جماعت احمدیہ کی بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔