انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 53 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 53

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۳ سورة المائدة بار یکی میں جاتا ہے اور ایسے احکام دیتا ہے کہ جن پر عمل کر کے ہم ترقی کی منازل بآسانی طے کر سکتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ہم یہ عہد کریں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کریں گے اور اس کی اطاعت سے کبھی روگردانی نہیں کریں گے اسی میں ہماری کامیابی کا راز مضمر ہے۔ان احکام کی رو سے پہلی ذمہ داری انسان کی یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کی اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں کی قدر کرے اور قدر یہی ہے کہ ان کے حقوق بجالائے۔پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی روحانی ترقی کے پیش نظر ایک اور عظیم اعلان بھی کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ دوسری روح کو بچانے کے لئے اپنی روح کی قربانی پیش کرو۔جہاں جسمانی صلاحیتوں کو ترقی دینے اور اپنے نفس کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دی وہاں ساتھ ہی نفس پرستی سے منع فرمایا اور اس کے لئے اس نے ہمیں اخلاقی صلاحیتیں عطا کیں۔اُس نے ان اخلاقی صلاحیتوں کو ترقی دینے کے لئے بھی متعدد احکام دیئے ہیں اور تاکید کی ہے کہ ہم ان پر بھی عمل پیرا ہوں اور وجہ اس کی یہ بیان فرمائی کہ اخلاقی احکام پر عمل پیرا ہونا دراصل تیاری ہے ایک اور اہم منزل تک پہنچنے کی۔اور وہ منزل یہ ہے کہ ہم اس زندگی میں روحانی طور پر ترقی کر کے اپنے آپ کو اُس زندگی میں کامیابی کا اہل بنا ئیں جو کبھی ختم نہ ہو گی یعنی حیات الآخرۃ کو اپنا منتہائے مقصود بنا کر اس دُنیا میں اعمالِ صالحہ بجالا ئیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ امر ذہن نشین کرایا ہے کہ اگلے جہان کی زندگی کا آغاز اس دُنیا میں ہی ہو جاتا ہے یعنی اس دُنیا کی زندگی اور اگلے جہان کی زندگی میں ایک تسلسل ہے اور دونوں زندگیاں باہم ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں۔( خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۵۰۷ تا ۵۰۹) اس کائنات میں خدا نے انسان کو عبد بننے کے لئے پیدا کیا ہے اگر وہ خدا کا عبد بن جائے تو وہ ساری برکتیں اسے مل جاتی ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے اور اگر وہ ایسا نہ بنے یعنی عِباد الرحمن میں شامل نہ ہو تو اس کا وہ خود ذمہ دار ہے کسی اور پر اس کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور نہ کسی اور کو مجرم قرار دیا جا سکتا ہے۔اگر کسی کا جرم ہے تو اس نے نقصان اٹھانا ہے اور اگر کسی نے کچھ پانا ہے تو اس نے پانا ہے۔لَا يَضُرُّكُم مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمُ (المائدة :۱۰۶) ہدایت پر اس نے خود قائم رہنا ہے۔ساری دنیا بھی اگر خدا سے دور ہو جاتی ہے اور ایک فرد واحد خدا کے حضور روحانی