انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 52
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۵۲ سورة المائدة ان احکام میں سے بعض کا تعلق ہمارے جسم سے ہے اور بعض کا تعلق ہماری روح سے ہے۔اسی نسبت سے ہماری صلاحیتیں بھی دو قسم کی ہیں ایک جسمانی اور دوسرے روحانی۔ہر دو قسم کی صلاحیتوں کو ترقی دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے علیحدہ علیحدہ احکام دیئے ہیں۔جہاں تک جسمانی صلاحیتوں کو ترقی دینے والے احکام کا تعلق ہے ان میں سے ایک حکم یہ ہے کہ ہم خواہ مخواہ نفس کشی کے مرتکب نہ ہوں۔اسی لئے اُس نے بلا وجہ فاقے کرنے اور جسمانی قوی کو ماؤف کرنے سے منع کیا ہے۔اسی طرح دوسری طرف اُس نے اسراف سے بھی روکا ہے۔جسمانی صلاحیتوں کو ترقی دینے کے سلسلہ میں اُس نے ہمیں درمیانی راستہ پر چلنے کا حکم دیا ہے یعنی انسان نہ تو نفس کو اتن مارے کہ مضمحل ہو کر نا کارہ ہو جائے اور نہ اس درجہ نفس پروری کرے کہ اسراف کا مرتکب ہوکر نفس پرستی پر اتر آئے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اَلا تَطْغَوا فِي الْمِيزَانِ (الرحمن : 9) فرما کر متوازن خوراک اور متوازن عمل کی تعلیم دی ہے (Balanced Diet) یعنی متوازن غذا کا نظریہ جس کافی زمانہ بہت تذکرہ سننے میں آتا ہے کوئی جدید نظریہ نہیں ہے بلکہ اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہمیں یہی تعلیم دی تھی کہ ہم متوازن غذا استعمال کریں کیونکہ متوازن جسمانی ترقی کے لئے متوازن غذا کی ضرورت ہے۔آج کل کے ماہرین غذا متوازن غذا پر بہت زور دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ متوازن غذا کا نظریہ دُنیا میں پہلی بارا نہوں نے ہی پیش کیا ہے حالانکہ اسلام نے بہت پہلے ہی متوازن غذا کی اہمیت کو اجا گر کر دیا تھا اسی طرح شہد کے متعلق قرآن مجید میں چند آیات آتی ہیں۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے شہد اور شہد کی مکھیوں کے بارہ میں جو کچھ بیان فرمایا ہے وہ جدید ریسرچ کی رو سے بھی سو فیصد درست اور مبنی بر حقیقت ثابت ہوا ہے۔صدیوں بعد ریسرچ کرنے والے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ گویا شہد اور شہد کی مکھیوں کے یہ خواص اُنہوں نے پہلی بار دریافت کئے ہیں حالانکہ قرآن مجید میں ان خواص کا پہلے ہی ذکر موجود ہے۔جب ہم اس نقطہ نگاہ سے قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو دل بے اختیار اللہ اکبر پکار اٹھتا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ خدا کی کتاب یعنی قرآن مجید بہت عظمت والی کتاب ہے۔الغرض اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم میں ایسے احکام دیئے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم زندگی کے تمام میدانوں میں ترقی کر سکتے ہیں۔قرآن سب سے عظیم کتاب ہے سب سے پیاری کتاب ہے۔یہ ہر