انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 54 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 54

۵۴ سورة المائدة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث رفعتوں کو حاصل کر رہا ہے تو ساری دنیا کی دوری اس کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی کو دیکھ لو دعوی نبوت سے پہلے بھی آپ خدا کے حضور جو گریہ وزاری اور عبادتیں کرتے رہے وہ بتاتی ہیں کہ اس وقت حقیقی معنے میں خدا تعالیٰ کا ایک ہی عبادت گزار بندہ تھا آپ کے سوا ساری دنیا غفلت میں پڑی ہوئی تھی۔کوئی تکبر میں پڑا ہوا تھا۔کوئی اباء اور استکبار میں پڑا ہوا تھا۔کوئی خدا کے خلاف بغاوت میں لگا ہوا تھا صرف وہی ایک بندہ تھا جو خدا کے حضور جھکا ہوا تھا۔پھر اس وقت جب کہ ہر انسان خدا سے دور تھا ، خدا نے اسی ایک بندے سے پیار کیا اور اتنا پیار کیا کہ اور انسان کے حق میں نظر نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ نے اتنا پیار کیا ہو یا کسی اور انسان کو خدا تعالیٰ کا اتنا پیار ملا ہو یا خدا تعالیٰ کی طرف سے اتنی نعمتیں ملی ہوں یا اتنی عزت قائم ہوئی ہو جتنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوئی۔پس وہ جو اکیلا تھا کروڑوں کروڑ لوگ اس پر درود بھیجنے والے پیدا ہو گئے اور قیامت تک پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔غرض یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان خود اپنا ذمہ دار ہے۔کسی انسان کو خدا تعالیٰ کے پیار سے روکنے کی کوئی اور انسان طاقت نہیں رکھتا۔اسے اگر پیار ملتا ہے تو إِنَّكَ كَادِحٌ إِلى رَبِّكَ كَدْحًا فَيُلْقِيهِ کے مطابق ملتا ہے اور اگر وہ خدا کے پیار سے محروم رہتا ہے تو اس محرومی کی ذمہ داری اس کے اپنے نفس پر ہے کسی اور پر نہیں۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۲۹۷ تا ۲۹۸) آیت ۱۱۵ ۱۱۶ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلُ عَلَيْنَا مَا بِدَةً مِنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدَ الاَولِنَا وَاخِرِنَا وَآيَةً مِنْكَ وَارْزُقْنَا وَ اَنتَ خَيْرُ الرّزِقِينَ قَالَ اللهُ اِنّى مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۚ فَمَنْ يَكْفُرُ بَعْدُ۔مِنْكُمْ فَإِنِّي أَعَذِّبُهُ عَذَابًا لَا أَعَذِّبُةٌ أَحَدًا مِنَ الْعَلَمِينَ ج حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں نے ان سے ایک مطالبہ کیا تھا۔جس کے ساتھ روحانی طور پر عہد کا تعلق تھا۔گو وہ اس مطالبہ کے وقت اسے سمجھتے نہیں تھے۔انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام سے یہ عرض کیا کہ کیا تیرے رب میں یہ طاقت ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے رزق نازل کرے۔کیونکہ ان کی نگاہ دنیا ہی میں محو اور کھوئی ہوئی تھی اور اس سے آگے نہ نکل سکی تھی۔حضرت عیسی علیہ السلام نے انہیں