انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 596
۵۹۶ سورة الفرقان تفسیر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث تھیں۔یا کوئی خدمت خلق کی تھی۔ہماری پیدائش سے ہی نہیں بلکہ آدم کی پیدائش سے بھی پہلے اس کارخانہ عالم کی ہر چیز کو انسان کی خدمت پر لگا دیا۔اسی طرح بے شمار چیز میں صفت رحمانیت کی مظہر ہیں۔اس کے لئے انسان کو کچھ کرنا نہیں پڑتا۔اللہ تعالیٰ کی یہ صفت خود بخود جوش میں آتی ہے اور جانداروں کے لئے وہ کسی عمل کے بغیر نعماء اور فیوض کے چشمے جاری کر دیتا ہے۔پس خدا کی دوسری بنیادی صفت رحمانیت ہے۔یعنی بغیر کسی عمل کے فیض پہنچانا اور نفع پہنچانا اور نعمتوں سے مالا مال کر دینا۔چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفات باری کے مظہر اتم ہیں اس لئے آپ نے اپنی صفت رحمۃ للعالمین کی رُو سے سب اقوام اور قیامت تک کی نسلوں سے کہا ما استَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ میں تمہارے پاس جو ہدایت لایا ہوں اس پر میں تم سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتا۔میں تمہارے کسی عمل کے نتیجہ میں تمہیں یہ کامل شریعت نہیں دینا چاہتا بلکہ اس خدا داد محبت کے نتیجہ میں دینا چاہتا ہوں جو میرے دل میں تمہارے لئے موجزن ہے۔پس اس سے ظاہر ہوا کہ آپ کے فیوض و برکات کا کوئی بدل اور اجر نہیں ہے اور آپ رحمانیت کے بھی مظہر اتم ہیں۔خطابات ناصر جلد اول صفحه ۵۹۲،۵۹۱) آیت ۵۹ وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ و کفی به بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيْران قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ اس ہستی پر توکل کرنا چاہیئے اور اسی کو اپنا سہارا بنانا چاہیئے کہ جو حتی ہے اور جس پر موت وارد نہیں ہوتی۔اگر ایسی ہستیاں ہوں جن پر موت وارد ہو سکتی ہے اور ان پر کوئی شخص تو کل کرے تو کہا نہیں جا سکتا کہ اس کے کام کرنے سے پہلے ہی ان پر موت وارد ہو جائے۔اس لئے ایسی ہستی پر توکل کرنا چاہیے کہ جو الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ ہے جو زندہ ہے اور زندگی بخش ہے۔الحی کے دو معنی ہیں ایک تو یہ ہے کہ وہ ہستی خود ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی اور دوسرے یہ کہ اس کے حتی ہونے کی صفت کا اگر جلوہ نہ ہو اور اس کا حکم نہ ہو تو کوئی اور وجود زندہ نہیں رہ سکتا۔پس جس کے سہارے سے ہم زندہ ہیں اور وہ زندہ ہستی جس پر کبھی موت نہیں آسکتی اسی پر ہمیں تو کل رکھنا چاہیئے اور اسی کو سہارا بنانا چاہیئے۔وَسَبِّحْ بِحَمدِ ہے اور وہ ذات تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے۔کوئی حقیقی خوبی نہیں جو خدا تعالیٰ