انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 597
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۹۷ سورة الفرقان میں موجود نہ ہو اور کوئی نقص نہیں جو خدا تعالیٰ میں پایا جاتا ہو۔ہر عیب اور نقص اور کمزوری سے وہ پاک ہے اور وہ اس بات سے بھی پاک ہے کہ صفاتِ حسنہ میں سے کوئی صفت ایسی ہو جو اس میں نہ پائی جائے۔وہی ہستی ہے جو تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے اور وہی ہستی ہے جو ہر عیب سے پاک ہے۔وہ مقدس ذات ہے تمام تعریفیں اسی کی ہیں اور اسی کی طرف رجوع کرتی ہیں اور اگر کہیں بھی واقعہ میں اور حقیقی طور پر کوئی ایسی خوبی نظر آئے جو تعریف کے قابل ہو تو وہ بھی اسی کی عطا ہے اور وَ كَفَى بِهِ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا (بنی اسرائیل: ۱۸) اگر کہیں کوئی کمزوری یا عیب یا کبھی نظر آئے تو اسی کی ذات ہے جو اس کو دور کرسکتی ہے اور وہ علام الغیوب خدا ہی جانتا ہے کہ کون اور کتنا کوئی شخص گناہ میں ملوث ہو گیا ہے۔الزام تراشی تو انسان انسان پر کرتے ہی رہتے ہیں اور عیب جوئی بھی کرتے ہیں لیکن عیب ہے بھی یا نہیں اور گناہ ہے بھی یا نہیں اس کا علم سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے اور کسی کو نہیں ہوسکتا کیونکہ گناہ وہی ہے جو خدا کو نا پسند ہے اور نیکی وہی ہے جو اس کی نگاہ میں نیکی ہے اور جو چیز خدا کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہے اس سے اسی سے پناہ مانگی جاسکتی ہے اور جو چیز خدا کی نگاہ میں گناہ ہے اسی کی مغفرت کی چادر سے ڈھانپ سکتی ہے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۳۰۰،۲۹۹) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں کامل حیات کا مالک یعنی الکتی ہوں، مجھ پر موت وارد نہیں ہوتی اگر تم مجھ پر تو کل کرو گے اور مجھے اپنا سہارا بنا لو گے تو تمہیں یہ خوف نہیں ہوگا کہ جسے تم نے سہارا بنایا ہے وہ کہیں مر نہ جائے یا ان ویلڈ (Invalid) نہ ہو جائے بعض دفعہ ایسی بیماری آتی ہے کہ انسان کے ہاتھ پاؤں کام نہیں کرتے یا بعض دفعہ مثلاً انسان پاگل ہو جاتا ہے پس گو اس دنیا کی زندگی کامل زندگی نہیں لیکن اس ناقص زندگی کا نسبتی طور پر جو کمال ہے وہ بھی باقی نہیں رہتا غرض الحی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے پس اے انسان! تو اسی پر توکل کر توكَّلُ عَلَیهِ۔تو اس ذات پر توکل کر جو خود زندہ ہے اور سب زندگی اور حیات اس کامل حیات سے فیض یافتہ ہے اگر اس کی اس صفت کا جلوہ نہ ہو تو کوئی وجود زندہ نہیں رہ سکتا اور یہ خطرہ ہی نہیں کہ کبھی وہ مرجائے وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَهِ الْحَى موت اس پر آ ہی نہیں سکتی۔پھر فرمایا اگر تم نے اللہ پر توکل کرنا ہے تو پھر تمہیں اس کی عبادت میں مشغول رہنا پڑے گا اس کی تسبیح و تحمید میں مشغول رہنا پڑے گا تم اسی پر توکل رکھو اور یہ سمجھ کر رکھو کہ اس کی ذات الحی ہے تمام ہے