انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 595 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 595

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث کیا جاتا ہے۔۵۹۵ سورة الفرقان ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اتنے زبر دست اور اتنی کثرت سے دلائل جمع کر دیئے ہیں کہ دنیا کا کوئی باطل عقیدہ خواہ کسی مذہب سے ہی تعلق کیوں نہ رکھتا ہو ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔تو عقائد باطلہ کا (خواہ وہ عقائد باطلہ عیسائیوں کے ہوں یا آریوں کے یاسکھوں کے یا دہریوں کے یا دوسرے بد مذاہب کے ہوں ) دلائل حقہ کے ساتھ مقابلہ کرنا بھی ایک زبردست جہاد ہے جس کے نتیجہ میں اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو تو انسان اس کی رحمتوں کا وارث بنتا ہے۔اور دوسرے جَاهِدُهُم بِهِ جِهَادًا كبيرا (الفرقان : ۵۳) تعلیم قرآن کو عام کرنے سے یہ جہاد کیا جاتا ہے کیونکہ مومنوں کی جماعت میں علوم قرآنیہ کو تر و یج دینا۔ان کے دلوں میں قرآن کریم کی محبت پیدا کرنا اور ان کو اس حق الیقین پر قائم کرنا کہ قرآن کریم بڑی برکتوں والی عظیم کتاب ہے اس سے جتنا پیار ہو سکتا ہے کرو۔اس سے جتنی محبت تم کر سکتے ہو کرو تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے زیادہ سے زیادہ وارث بنو۔تو یہ بھی ایک مجاہدہ ہے اور اسی مجاہدہ اور جہاد کی طرف اس وقت میں بار بار جماعت کے دوستوں کو متوجہ کر رہا ہوں۔خطبات ناصر جلد اوّل صفحه ۴۲۱،۴۲۰) آیت ۵۸ قُلْ مَا اسْتَلْكُمُ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِلَّا مَنْ شَاءَ أَنْ يَتَّخِذَ إلى رَبِّهِ سَبِيلًا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات کو لیں تو وہ ساری دنیا پر محیط ہیں۔آپ کی ہدایت اور تبلیغ کوسامنے رکھیں تو وہ ساری دنیا پر مند ہیں۔گویا اللہ تعالی نے آپ کو قیامت تک کے لئے فیض رسانی کا ذریعہ بنادیا۔یہ چیز تھی جو آپ لائے۔آپ ساری دنیا کے لئے نبی اور آپ سارے زمانوں کے لئے ہیں۔نہ پہلے انبیاء کی مکانی وسعت ساری دنیا تھی اور زمانی وسعت قیامت تک کا زمانہ تھا۔رحمانیت کو لیں۔یعنی بغیر اجر دینے والا تو اس میں بھی آپ کی ذات اسوہ کا رنگ رکھتی ہے۔رحمانیت کے جلوے مجاہدہ کے محتاج نہیں ہوتے۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے فائدہ کے لئے سورج بنایا۔ہم نے کب سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھانے کی خاطر کوئی مجاہدہ کیا تھا۔یا کوئی نمازیں پڑھی تھیں۔یا کوئی قربانیاں دیں