انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 594
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۹۴ سورة الفرقان وکیل۔یہ ابنِ جریر نے کہا ہے۔تفسیر روح البیان میں ہے کہ آفَانتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَکیلا کے معنے ہیں کہ آفَانْتَ تَكُونُ حَفِيْظًا کہ کیا تجھے ہم نے حفیظ بنایا ہے؟ یعنی نگران اور محافظ نہیں بنایا کہ تَمْنَعُهُ عَنِ الشَّرُكِ وَالْمَعَاصِي تو لوگوں کو شرک سے منع کرے اور گناہوں سے انہیں بچائے۔پھر لکھا ہے۔آئی لَسْتَ مُوْلًا عَلَى حفظہ ان کو شرک اور معاصی سے بچانے اور محفوظ کرنے کا کام خدا نے تیرے سپرد نہیں کیا۔ان کو آزادی دی ہے۔بَلْ اَنْتَ مُنْذِرُ بلکہ تیرا کام صرف انذار کرنا ہے ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے۔تیرا کام ہے ان سے کہے کہ وحدانیت، کائنات کی بنیاد ہے اور دلائل دے، نشان دکھائے معجزات ظاہر کرے۔اور معجزہ وہ ہے عقلِ انسانی جس کو Explain نہیں کر سکتی یعنی بتا نہیں سکتی کہ یہ کیسے ہو گیا سوائے اس کے کہ خدا نے ایسا کر دیا۔لیکن تیرا کام یہ نہیں ہے کہ تو شرک سے انہیں بچالے۔اس بات پر مکلف نہیں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم۔نہ آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ گناہگار نہ بنیں۔تفسیر ( کبیر ) رازی میں ہے کہ آفَانتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا أَنْ حَافِظًا تَحْفُظُهُ مَنِ اتَّبَاعَ هَوَاهُ تجھے ہم نے یہ حکم نہیں دیا اور نہ یہ قدرت اور طاقت دی ہے اور نہ تجھے حافظ بنایا ہے کہ تو انہیں محفوظ رکھے نفسانی خواہشات کی اتباع کرنے سے۔آئی لست كذلك کہتے ہیں اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسا دوسری جگہ فرما یا کستَ عَلَيْهِمْ بِمُضَيْطِرِ اور جیسا کہ میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُضطر کے معنے کئے گئے ہیں لَستَ بِمُسَلَّطٍ عَلَيْهِمْ تَجْبُرُهُمْ عَلَى مَا تُرِيدُ یعنی تو نے جو ایک روشنی اور صداقت دیکھی سود دیکھی، جبر کر کے کسی کو منوانے کا کام تیرے سپرد نہیں کیا گیا اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا مَا أَنتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرما یا لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اکراہ کرنے کی تجھے اجازت نہیں۔جبر کر کے، مجبور کر کے ان کو اس طرف لانے کی تجھے اجازت نہیں۔( تفسیر کبیر امام رازی۔زیر آیت الفرقان:۴۴) (خطبات ناصر جلد هشتم صفحه ۱۳ تا ۱۵) آیت ۵۳ فَلَا تُطِعِ الْكَفِرِينَ وَ جَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا مجاہدہ کی سب سے اہم قسم جَاهِدُهُم بِه جِهَادًا كبيرًا (الفرقان: ۵۳) میں بیان کی گئی ہے۔یعنی قرآن کریم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے دین کی راہوں میں جہاد کرنا اور اصولی طور پر یہ جہاد دو شکلوں میں