انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 593 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 593

۵۹۳ سورة الفرقان تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اللہ تعالیٰ کی مرضی کے سوا اُس کے علم کے کسی حصہ کو بھی پا نہیں سکتا۔اور اس سے اگلا کٹڑا آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم آسمانوں پر بھی اور زمین پر بھی حاوی ہے۔کائنات کا اس کے علم نے احاطہ کیا ہوا ہے وہ اس کا پیدا کرنے والا ہے اس کے اندر جو کچھ بھی خواص پائے جاتے ہیں، جو کچھ خواص میں کمی ہوتی ہے، جو بڑھوتی ہوتی ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اس کے امر سے یا اس کے خلق سے وہ چیز ہو رہی ہے۔وہ اس سے پوشیدہ اور چھپی ہوئی نہیں۔وہ انسانوں کی طرح نہیں کہ آج یاد کر لیا یا سن لیا اور کل کو بھول گیا خدا نہ کرے آپ میں سے بعض بھول ہی جائیں کہ میں آپ کو کیا نصیحت یہاں کر کے گیا ہوں کہ قرآن کریم کا علم حاصل کرتے رہنا ہے اسے بھولنا نہیں۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۵۶۷ تا ۵۷۰) آیت ۴۴ اَروَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوىهُ أَفَأَنْتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا اے رسول! کیا تو نے اس شخص کا حال بھی معلوم کر لیا جس نے اپنی خواہشات نفسانی کو اپنا معبود بنالیا جیسا کہ آج کل یہ فیشن بنا ہوا ہے ساری دنیا کا (یورپ ہے، امریکہ ہے،سوشلسٹ، کمیونسٹ ممالک ہیں ) کہ وہ خواہشات نفس کو اپنا معبود بنائے بیٹھے ہیں۔بعض ملکوں نے تو یہ اعلان کر دیا کہ ہمارے عوام ہمارا خدا ہیں تو یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی خواہشات نفسانی کو اپنا معبود بنالیا ہے۔پھر فرماتا ہے آفَانتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَکیلا کیا تو اس شخص پر نگران ہے کہ تو اسے جبراً گمراہی سے روکے؟ اس آیت کے متعلق بھی میں نے پرانی تفاسیر دیکھیں۔مضمون لمبا ہے مگر میں چاہتا ہوں آج اسے ختم کر دوں اس لئے صرف ایک دو آیتوں کے متعلق میں نے پرانی تفسیروں کے بھی حوالے لئے تا کہ آپ پر یہ بات واضح ہو جائے۔ابن جریر کہتے ہیں " يَقُولُ تَعَالَى ذِكرُهُ الله جلشانہ فرماتے ہیں أَفَأَنْتَ تَكُونُ يَا مُحَمَّدُ عَلَى هَذَا حَفِيظًا في أفعاله ( تفسیر ابن جریر جلد ۱۹ صفحه ۱۱۔زیر آیت الفرقان : ۴۴ ) که اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم نے تجھے نگران مقرر کیا ہے ایسے شخص کا جو نفسانی خواہشات کو اپنا معبود بنالیتا ہے؟ تو یہ استفہام ایسا ہے جو عربی محاورہ کے مطابق انکار کے معنی دیتا ہے یعنی تجھے نہیں بنایا