انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 51
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة المائدة اللہ تعالیٰ فرماتا ہے والله واسع کہ جس پر وہ نگاہ رضاڈالتا ہے اس کو اس کی محبت حاصل ہو جاتی ہے۔یہ مقامِ رضا ایسا ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں۔پھر عاجزانہ دعائیں اس کی محبت میں اضافہ کرتی چلی جاتی ہیں اور مزید فضل اور بخشش کا اسے وارث قرار دیتی ہیں۔پھر جب وہ مزید فضل اور بخشش کا وارث بنتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کا پہلے سے بھی زیادہ شکر گزار بندہ بن جاتا ہے اور جب وہ پہلے سے زیادہ شکر گزار بندہ بنتا ہے تو اللہ تعالیٰ پہلے سے بھی زیادہ اس سے محبت کا سلوک کرنے لگ جاتا ہے۔جب وہ دیکھتا ہے کہ خدا مجھ سے پہلے سے بھی زیادہ محبت کا سلوک کر رہا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اور بھی زیادہ جھک جاتا ہے اور اس طرح ایک تسلسل قائم ہوجاتا ہے۔اور ہر آن بندہ خدائے واسع کی صفت واسع کا مشاہدہ کرتا چلا جاتا ہے۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۴۴۰ تا ۴۴۲ آیت ۱۰۶ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ إِلَى اللهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُم تعملون اے مومنو! تم اپنی جانوں ( کی حفاظت) کی فکر کرو۔جب تم ہدایت پا جاؤ تو کسی کی گمراہی تم کو نقصان نہیں پہنچائے گی تم سب نے اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے پس جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس سے تمہیں آگاہ کرے گا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ ایک شخص کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کی فکر کرے اور اس کا پورا پورا خیال رکھے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہے، اُس نے ہمیں محض پیدا ہی نہیں کیا بلکہ بعض صلاحیتیں بھی عطا کی ہیں اور پھر اُس نے ہمیں بعض راہوں پر چل کر ان صلاحیتوں کو ترقی دینے اور حسب استعداد انہیں کمال تک پہنچانے کی ہدایت فرمائی ہے۔ان راہوں پر چلنے سے ہم اس کو پالیتے ہیں اور اس طرح اپنی زندگی کا اصل مقصد ہمیں حاصل ہو جاتا ہے۔وہ راہیں کون سی ہیں؟ سو جاننا چاہیے کہ وہ راہیں وہ احکام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں دیئے ہیں۔ان احکام پر عمل کر کے ہم حقیقی فلاح سے ہمکنار ہو سکتے ہیں اور عند اللہ کا میاب قرار پاسکتے ہیں۔