انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 50 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 50

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة المائدة اس میں ہم نے خدا کے بتائے ہوئے طریق کے خلاف رسوم کو ادا نہ کیا۔تو ہمارا ناک کٹ جائے گا کیونکہ وہ اس یقین پر قائم ہوتے ہیں کہ ناک کٹنا یا ناک کا رکھنا محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے اور ساری عرب تیں اسی کی طرف منسوب ہوتی ہیں۔وہی تمام عرب توں کا سر چشمہ ہے تو فرمایا وَ لَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لابِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ نشاء پہلے فرمایا تھا کہ تم اُمید رکھ سکتے ہو کہ پھر تمہارا خدا تم سے محبت کرنے لگے گا۔اب یہاں یہ وضاحت کی کہ اللہ تعالیٰ جو ان سے عملاً محبت کرنے لگ جاتا ہے تو وہ اس وجہ سے نہیں کہ انہوں نے بظاہر بدیوں کو چھوڑا اور بظاہر نیکیوں کو اختیار کیا بلکہ چونکہ ہر انسان کے اعمال اور خیالات میں کچھ چھپی ہوئی برائیاں اور کمزوریاں رہ جاتی ہیں اس لئے کوئی شخص یہ امید نہیں رکھ سکتا۔اور نہ ہی اسلامی تعلیم کے مطابق اسے ایسی امید رکھنی چاہیے کہ وہ محض اپنے اعمال یا اچھے خیالات یا اچھی زبان کے نتیجہ میں خدا کے قرب اور اس کی رضا کوضرور حاصل کرے گا یہ تو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ اور وہ اپنی محبت کی خلعت سے صرف اسے ہی نوازتا ہے۔جو اس کی نگاہ میں پسندیدہ ہوتا ہے۔(مَنْ يَشَاءُ ) اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک اور بات بھی بتائی وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ چونکہ اللہ تعالیٰ علم غیب رکھتا ہے اس لئے جب وہ چاہتا ہے۔اپنی صفت واسع کا اظہار کرتا ہے۔پس یہاں یہ امید دلائی کہ یہ مقام قرب ورضاء جس کی طرف یہ آیت اشارہ کر رہی ہے اس کی کوئی انتہاء نہیں۔ہر مقام قرب کے بعد قرب کا ایک اور مقام بھی ہے۔کیونکہ انسان کسی شکل میں ہی کیوں نہ ہو۔اس مادی دنیا میں مادی جسم کے ساتھ یا اس اُخروی زندگی میں ایک روحانی جسم کے ساتھ اس کے اور اس کے رب کے درمیان غیر محدود فاصلے ہیں۔یعنی قرب ایک نسبتی چیز ہے اور اگر انسان قرب کی راہیں ابدی طور پر ہر آن طے کرتا چلا جائے تب بھی وہ خدا کے قرب کا آخری مقام حاصل نہیں کر سکتا جس کے اوپر کوئی اور مقام قرب نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کی ذات تو بڑی ہی ارفع ہے۔بلندی کے بعد بلندی انسان کو حاصل ہوتی رہتی ہے۔اور خوش قسمت انسانوں کو حاصل ہوتی رہے گی۔لیکن یہ فاصلے غیر محدود ہیں اور قرب کی غیر محدودرا ہیں کھولتے ہیں۔