انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 576 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 576

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۷۶ سورة النور اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ آسمان اور زمین میں کائنات کے ہر حصے میں خدا تعالیٰ ہی کا نُور جلوہ گر ہے اور ہر مخلوق میں ہمیں خدا ہی کے چہرے کی چمک نظر آتی ہے۔اس کے بغیر سب تاریکی اور ظلمت ہے۔ہر چیز نور خدا تعالیٰ کی ذات سے ہی لیتی ہے۔پس یہ جو کائنات ہے اور جو ماوراء کائنات ہے اس کا ہم ہلکا سا مبہم سا تصور ذہن میں لائیں تب ہمیں کچھ شعور حاصل ہو سکتا ہے۔اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کس معنی میں غیر محدود ہے یہ ہمیں اسلام نے بتایا ہے کہ خدا کی ذات قطعی طور پر غیر محدود ہے اس کی حد بست نہیں کی جاسکتی۔وہ کائنات کے ہر حصہ میں ہر وقت اسی طرح موجود ہے جس طرح وقتی طور پر ایکسرے کی شعاعیں انسان کے جسم کے بعض حصوں میں جہاں سورج کی روشنی نہیں کی جاسکتی وہاں موجود ہوتی ہیں۔پس اصل نُور جو ہے وہ خدا کا ہے۔میں نے قرآن کریم میں لفظ ”نور“ پر بڑا غور کیا ہے۔نور خدا ہی کا ہے دوسری چیزوں کے لئے جب ہم ٹور کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو وہ مجازی معنے میں کرتے ہیں۔حقیقی معنے میں نور اللہ ہی کا ہے۔مثلاً خدا کے نور میں اور ایکسرے کی شعاعوں میں غیر محدود فاصلے ہیں یعنی اتنی کثیف ہے ایکسرے کی شعاع خدا تعالیٰ کے نُور کے مقابلے میں کہ اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔سورج ہے اس کی روشنی اندر نہیں آرہی۔اس کو دیواروں نے روک لیا ہے۔ایکسرے کی شعائیں ایک حد تک جسم کے اندر داخل بھی ہو گئیں اور بہت سی چیزیں جو دوسری روشنی کی شعاعوں کو روکتی ہیں وہ نہ رہیں لیکن خدا تعالیٰ کا نور ہر چیز میں سرایت بھی کر رہا ہے اور اس سے جدا بھی ہے۔اس سے ایک اور بڑا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے اس کے متعلق میں آگے بیان کروں گا۔پس اصل نور خدا کا نُور ہے اور کائنات بھی اسی ٹور سے معمور ہے اور کائنات کا کوئی ذرہ بلکہ اس ذرہ کا اربواں حصہ بھی اس سے خالی نہیں اور جو ماوراء کا ئنات ہے وہ بھی خدا کے نور سے معمور ہے۔پس ایک لحاظ سے خدا تعالیٰ قریب ہے۔جیسا کہ فرمایا کہ اللهُ نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ اور پھر فرمایا وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ( ق : ۱۷) اور بہت سی آیات ہیں جو بتاتی ہیں کہ خدا تعالیٰ انسان کے کتنا قریب ہے گویا خدا تعالیٰ کا جونور ہے اس کا کائنات کے ہر ذرہ سے ایک پختہ تعلق ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ تعلق قائم نہ رہے اور جہاں وہ تعلق نہ رہے وہاں فنا آ جاتی ہے۔وہ چیز جو خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کرے وہ قائم نہیں رہ سکتی۔جب اس کا ئنات پر فنا آتی ہے چھوٹے پیمانے پر