انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 577
۵۷۷ سورة النور تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث بھی اور بڑے پیمانے پر بھی تو وہ فنا یہی ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے نور کا تعلق اس سے قطع کر لیتا ہے تب اس چیز پر فتا آ جاتی ہے لیکن اللهُ نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ کی رو سے انسان میں بھی خدا تعالیٰ اپنے ٹور کے ساتھ موجود ہے۔پس اس لحاظ سے انسان کے ساتھ اس کا بہت گہرا تعلق ہے پاکیزگی اور طہارت کے ذریعہ۔اس کے باوجود انسان کی جو مادی ترکیب ہے اور اس کا جو مادی وجود ہے وہ اپنی ہیئت کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کے نور سے اتنا دور ہے اور اتنے فاصلے پر ہے کہ اس کو پھلانگنا نہ انسان کی کسی طاقت کا کام ہے اور نہ اس کی عقل کا کام ہے، آپس میں بہت زیادہ بعد ہے۔قرب ہے تو ایسا کہ کوئی ذرہ بھی خدا کے نور سے خالی نہیں کیونکہ اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ اور بعد ہے تو اتنا کہ انسان کی کیا مجال جو یہ کہے کہ میں خدا ہوں اس سے ملتا جلتا ہوں۔چنانچہ اللهُ نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ سے ایک بد خیال پیدا ہو گیا لوگوں نے یہ سمجھا کہ پھر انسان عین اللہ بن گیا یا خدا کا وجود مخلوق کا عین بن گیا۔اس قسم کی لغو اور غلط اور فلسفیانہ بخشیں ہمارے درمیان آ گئی ہیں حالانکہ ایسا سمجھنا غلط ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی جو اصلی شکل ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک طرف اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ہے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی ذات غیب الغیب اور وراء الوراء اور نہایت مخفی واقع ہوئی ہے۔اللَّهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ذات غیب الغیب، وراء الوراء اور نہایت مخفی ہے ایسی مخفی کہ خالق اور مخلوق میں فرق کرنے کے لئے جتنے الفاظ بھی استعمال کر لئے جائیں کم ہیں بہر حال اسلام ہمیں یہ کہتا ہے کہ تم اس دھو کے میں نہ رہنا کہ چونکہ اللهُ نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ ہے اس لئے انسان خدا بن گیا یا خدا انسان میں حلول کر گیا ہے۔اس قسم کے غلط خیال بعض لوگوں نے اپنا لئے ہیں جو درحقیقت گمراہی کا نتیجہ ہیں۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۲۰۷ تا ۲۰۹)