انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 575
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۷۵ سورة النور کر دنیا پر ظاہر ہو رہا ہے۔یہ چاند کا نو رنہیں ہے جو اندھیری راتوں کو متو رکرتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ ہی کا نور ہے۔جو چاند کی چادر میں اپنے کو لپیٹتا اور اس مادی اور ابتلاء اور امتحان کی دنیا کو جگمگا دیتا ہے۔یہ گلاب کی خوشبو نہیں ہے جو مشام جان کو معطر بنا دیتی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کے لطف و کرم کا پر تو ہے جو انسان کو لذت اور سرور بخشتا ہے اور گلاب کے پردے میں چھپ کر سامنے آتا ہے اور یہ بادل نہیں جو مینہ برساتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی رحمتیں ہیں جو بادل کی شکل اختیار کرتی ہیں اور مینہ برسانے لگ جاتی ہیں۔خیر یہ ایک بڑا گہرا مسئلہ ہے جو لوگ اس کو سمجھتے ہیں وہ اس سے حظ اٹھا سکتے ہیں۔بہر حال خدا تعالیٰ کے متعلق قرآن کریم نے یہ اعلان کیا کہ وہ ہے۔یہ گویا خدا کے حسن کا اعلان ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حسن کی خوبیاں جو کسی فرد یا گروہ کو عملاً فائدہ پہنچاتی ہیں۔یہ وہی ٹور اور وہی حسن کی صفات ہیں جو مختلف شکلوں میں انسان پر ظاہر ہوتی ہیں۔خطابات ناصر جلد اول صفحه ۵۸۴،۵۸۳) اسی طرح اسلام نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات غیر محدود ہے۔اس مضمون کا یہ حصہ ذرا دقیق ہے آپ اسے غور سے سنیں۔خدا آپ کو سمجھنے کی تو فیق دے۔کا ئنات محدود ہے یعنی خدا تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ تو محدود ہے۔محض انفرادی حیثیت ہی میں نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی یہ کائنات محدود ہے لیکن اس کا ئنات کا صانع یعنی خدا تعالیٰ غیر محدود ہے۔اس لئے جہاں اس کی صفات کے جلوے کائنات میں ظاہر ہوتے ہیں، قرآن کریم کی اصطلاح میں انہیں تشبیبی صفات کہا جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی جو تنز یہی صفات ہیں وہ وراء الوراء مقام رکھتی ہیں۔ہم عاجز بندے اس کو سمجھ نہیں سکتے وہ ہماری عقل سے بالا ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے عرش کو مخلوق کہنا اور اس بحث میں پڑنا غلط ہے۔عرش اس وراء الوراء مقام کا نام ہے جس میں خدا تعالی کی تنزیہی صفات جلوہ گر ہوتی ہیں لیکن جہاں تک کا ئنات کا تعلق ہے اس میں انسان کوشش کرتا ہے اور سائنس اور تحقیق اور خدا داد علم کے ذریعہ ترقی کرتا ہے۔انسان کی یہ ترقی خدا تعالیٰ کی تشبیہی صفات کے پر تو کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔کائنات سے پرے خدا تعالیٰ کا جو بھی مقام ہے وہ انسانی عقل سے پرے ہے ہم اس کا تصور نہیں کر سکتے ، مگر جہاں تک کائنات کا سوال ہے اس میں