انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 552 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 552

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۵۵۲ سورة المؤمنون امتحان نہ ہو ) ایک پہلو امتحان کا اور ایک پہلو جزا کا اپنے اندر رکھتا ہے جہاں صرف امتحان کا پہلومدِ نظر ہوتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ اس کے متعلق یہ فرماتا ہے ااِنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ (التغابن :١٢) جو اموال اور اولاد میں نے تم کو دی ہے وہ تمہارے لئے ایک امتحان اور آزمائش ہے اگر تم اس امتحان میں کامیاب ہو گئے تو میرا انعام پاؤ گے اور اگر اس امتحان میں ناکام رہے تو میرا غضب تم پر بھڑ کے گا۔مومنوں کو جو اموال دیئے جاتے ہیں اور ان کے نفوس میں جو برکت ڈالی جاتی ہے اس میں بھی صرف انعام کا پہلو نہیں ہوتا بلکہ ایک طرف انعام ہوتا ہے تو دوسری طرف امتحان بھی ہوتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو ایک وقت میں بڑے ہی اموال عطا ہوئے تھے ایک ایک دن بعض دفعہ ان میں سے بہتوں کو لاکھ لاکھ یا اس سے بھی زیادہ رقوم مل جاتی تھیں مال غنیمت میں سے، مگر وہ یہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ایک انعام کی شکل میں نہیں بلکہ اس میں ہمارے لئے امتحان اور ہماری آزمائش بھی مد نظر ہے اگر وہ اس کو محض انعام سمجھتے تو دوسروں کو اس میں حصہ دار نہ بناتے اگر وہ یہ سمجھتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی محض رضا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رضا میں سے کسی اور کو حصہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن وہ یہ جانتے تھے کہ جہاں یہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے ایک طرف دوسری طرف اللہ تعالیٰ اس ذریعہ سے ہمارا امتحان بھی لینا چاہتا ہے اس پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض دفعہ جس دن انہیں لاکھ لاکھ کی رقم ملتی تھی اسی دن وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اسے خرچ بھی کر دیتے تھے تا کہ اس کی طرف سے زیادہ انعام انہیں ملے اور اس امتحان میں وہ کامیاب قرار دیئے جائیں۔تو اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرماتا ہے کہ مال یا اولاد کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا آنا اس بات کی علامت نہیں ہے نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَيْراتِ کہ ہم ان کونیکیوں میں جلد جلد بڑھارہے ہیں اور ان کے اوپر یہ محض انعام کے طور پر فضل ہو رہا ہے کہ ان کے مالوں میں بھی برکت ڈالی جارہی ہے اور ان کی اولاد میں بھی برکت ڈالی جا رہی ہے وہ سمجھے نہیں اور اس طرف متوجہ نہیں ہوتے کہ وہ جو يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَها سبقُونَ نیکیوں کی طرف تیزی سے بڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق جو سورۃ آل عمران میں ہے وَسَارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السموتُ وَالْأَرْضُ (ال عمران : ۱۳۴) اور وہ جن میں مسابقت کی روح پائی جاتی ہے۔ان میں چار