انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 553 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 553

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث علامتیں پائی جاتی ہیں۔۵۵۳ سورة المؤمنون اوّل یہ کہ هُم مِّنْ خَشْيَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُونَ خَشِيةُ اللہ سے لرزاں رہتے ہیں اور دوسری جگہ فرما يا وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا إِلَّا الله (الاحزاب :۴۰) کہ وہ اپنے دل کی اس کیفیت میں کسی اور کو اللہ کے سواشریک نہیں بناتے۔یعنی خشیتہ اللہ ہے اور صرف اللہ کی خشیت ہے کسی اور کی خشیت کو اس میں ملونی نہیں ہے یہاں اللہ نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ کی بنیادی اور اصولی صفات میں سے صفت رب کو منتخب کیا ہے اور فرمایا ہے کہ وہ اپنے رب کی خشیت سے لرزاں رہتے ہیں۔خشیتہ کے معنی ایسے خوف کے ہیں کہ جس سے خوف پیدا ہو اس کی ذات اور صفات کا علم بھی ہو اور وہ ذات ایسی ہو کہ جب اس کا علم انسان کو حاصل ہو جائے تو اس کی عظمت بھی دل میں پیدا ہوا تو خشیت کے معنی یہ ہوئے کہ ایسا انسان اپنے ربّ سے یہ جانتے ہوئے کہ وہ تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور ر بوبیت کی انتہائی اور آخری ذمہ داری اسی پر ہے۔مشاہبہ پرب شاید اس دنیا میں بھی ملیں لیکن اللہ کے علاوہ جو بھی درجہ بدرجہ جسمانی یا روحانی ارتقا کا باعث بنتے ہیں وہ اسی کے اذن اور اسی کی توفیق سے ایسا بنتے ہیں۔حقیقی طور پر اب وہی واحد یگانہ ہے پس جن لوگوں میں اس معنی میں رب کی خشیت پائی جاتی ہو اور هُمْ بِأَيْتِ رَبِّهِمُ يُؤْمِنُونَ وہ سمجھتے ہوں کہ قرآن عظیم کا نزول انسان کی جسمانی اور روحانی ترقیوں کے لئے ہے۔آیات سے یہاں مراد ایک تو قرآن کریم ہے اور دوسرے وہ تمام آسمانی تائیدات ہیں جو قرآن کریم کی آیات کے ظل کے طور پر اس دنیا میں ہمیشہ نازل ہوتی ہیں اور نازل ہوتی رہیں گی۔تو جو لوگ اپنے رب کی خشیت اپنے دلوں میں رکھتے ہیں اور اس سے لرزاں اور ترساں رہتے ہیں اور وہ جو قرآن کریم پر کامل ایمان رکھتے ہیں اور قرآن کریم کے فیوض کو جاری یقین کرتے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابدی فیوض پر ایمان لاتے ہیں اور جو اس طرح پر شرک کے ہر پہلو سے محفوظ ہو گئے ہیں بِرَبِّهِمْ لا يُشْرِكُونَ خفیہ یا ظاہری شرک بڑا یا چھوٹا شرک کوئی بھی ان کے قریب پھٹنے نہیں پاتا اور وہ لوگ جن کے دل اس بات سے وَجِلَةٌ خوف زدہ رہتے ہیں کہ ہم اپنی سمجھ کے مطابق اعمال صالحہ بجا تو لائے ہم نے صدقہ و خیرات بھی دیا دوسری نیکیاں کرنے کی بھی کوشش کی مگر ہم نہیں جانتے کہ یہ ہمارے رب کو مقبول بھی ہوں گی یا نہیں ہم نے سوائے اس کے کسی اور کے سامنے جواب دہ نہیں ہونا اور جس کے سامنے ہم جواب دہ ہیں اس کے متعلق ہم کہ نہیں سکتے کہ قبولیت کو