انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 551 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 551

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۵۱ سورة المؤمنون دعوی کے ساتھ ( زبان قال سے یا زبان حال سے ) تمہیں سلام کہے ( کوئی شخص سفر کر رہا ہے، پیدل چل رہا ہے، رستے میں ایک شخص ملا اس نے سلام کیا ) لَا تَقُولُوا لِمَنْ الْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء: ۹۵) تمہیں تجسس کرنے کی ضرورت نہیں۔اس نے ایمان کا اظہار کرتے ہوئے سلام کیا ہے۔تم اسے مومن سمجھو تجس کا نتیجہ تب نکلتا، اگر انسان عیوب کی سزادینے کا اختیار رکھتا اور اس کی طاقت بھی ہوتی۔تو جب نہ طاقت ہے نہ اختیار ، تو بے نتیجہ بے تجسس۔جسے طاقت حاصل ہے اور جس کے اختیار میں ہے سزا دینا یا معاف کر دینا، وہ تو اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے، اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔جب تمہاری طاقت میں نہیں ، جب تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا اختیار نہیں دیا گیا تو تمہارا تجسس کرنا بے مقصد، بے نتیجہ، اپنے وقت کا ضیاع اور دنیا میں فساد اور بدامنی اور معاشرے میں الجھن پیدا کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔اگر غور کیا جائے تو ” نہ کرنے والی باتیں بالواسطہ یا بلا واسطہ لغو سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔( خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۴۵۵ تا ۴۵۷) آیت ۵۶ تا ۶۲ اَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُسِدُّهُم بِهِ مِنْ مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَتِ، بَلْ لَا يَشْعُرُونَ إِنَّ الَّذِينَ هُمْ مِّنْ خَشْيَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُونَ وَ الَّذِينَ هُمْ بِأَيْتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ وَالَّذِينَ هُمُ بِرَبِّهِمْ لَا يُشْرِكُونَ ) وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوا وَ قُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَجِعُونَ ) أُولَبِكَ يُسْرِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَبِقُونَ اللہ تعالیٰ سورۃ المومنون کی ان آیات میں فرماتا ہے کہ ہم دنیا میں بہت سے لوگوں کو بڑا مال دیتے ہیں اولاد میں کثرت بخشتے ہیں اور جتھہ ان کو دیتے ہیں۔اس طرح پر ہم ان کی بڑی مدد کرتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں اگر وہ یہ سمجھیں کہ انہوں نے بہت سی نیکیاں کی ہیں اور یہ ان کی جزا ہے تو ان کی سمجھ کا قصور ہے ایسا نہیں ہے۔دنیا میں مال کا ملنا یا اولاد میں برکت کا پیدا ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے، ہمیشہ ہی (اگر پورے کا پورا