انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 48
۴۸ سورة المائدة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہی نہیں ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو مطہر سمجھے، قرار دے یا مطہر کے ساتھ جو اس کا سلوک ہے وہ سلوک اس سے کرے اور ہمیں یہ بھی بتایا کہ تمہیں چاہیے کہ تم اس یقین پر پختگی سے قائم رہو کہ اسلام کے مٹانے یا اس کے کمزور کر دینے کے منصوبے جہاں بھی ، جس رنگ میں بھی کئے جائیں وہ کامیاب نہیں ہوا کرتے جیسا کہ رسول مقبول محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے لا يَحْزُنُكَ کا نمونہ دنیا کو دکھایا تھا۔بڑے ابتلاء آئے ، فتنے کھڑے ہوئے، منصوبے کئے گئے لیکن آپ اسی بشاشت کے ساتھ خدا تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور عشق میں پوری طرح ڈوبے ہوئے اور خدا تعالیٰ کی محبت کو کامل طور پر حاصل کرتے ہوئے اس دنیا کی زندگی کے دن گزارتے رہے۔پس یہ نمونہ اس میدان میں آپ نے پیش کیا۔اس نمونہ کو سامنے رکھو اور اللہ تعالیٰ پر اور اس کی بشارتوں پر اور اس کے وعدوں پر کامل یقین رکھو۔اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو اس لئے قائم کیا ہے کہ وہ وعدہ پورا ہو جو اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا کہ تیرے روحانی فرزندوں میں ایک عظیم اور جلیل فرزند کھڑا کروں گا جو تیری عزت کو ، جو تیری محبت کو، جو تیری عظمت کو ساری دنیا میں قائم کرے گا اور قرآن کریم کی تعلیم کی اشاعت کو اپنے کمال تک پہنچا دے گا۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۷۶ ۴ تا ۴۸۵) آیت ۵۵ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَةٌ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الكَفِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَابِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا کہ جب تم بدیوں کو ترک کر کے اور نیکیوں کو اختیار کر کے میری رحمت کے اُمیدوار بن جاؤ گے تو پھر میں اپنے فضل کے ساتھ حقیقتا اور واقعتا تمہیں اپنی رحمت عطا کر دوں گا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورہ مائدہ میں فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَة