انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 49
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۴۹ سورة المائدة اذِلَةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَفِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لابِمٍ ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ - فرمایا کہ بعض انسان تو ایمان لانے کے بعد ارتداد اختیار کر جاتے ہیں اور بعض ایمان لاتے اور پھر پختگی اور استقلال اور فدائیت کے ساتھ اس پر قائم ہو جاتے ہیں۔وہ لوگ جو استقلال کے ساتھ نیکیوں پر مداومت اختیار کرتے ہیں۔ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَةٌ کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے اور اس کی رضا پر راضی رہتے ہیں۔پھر فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مومنوں پر شفقت کرنے والے ہیں ( ہر مومن تمام دوسرے مومنوں کے آگے بچھتا چلا جاتا ہے) یہ وہ لوگ ہیں اَعِزّةٍ عَلَى الْكَفِرِينَ جو کافروں کے مقابلہ میں سخت ہیں۔جب کا فراچھے لوہے کی تلوار میں لے کر ان کے مقابلہ پر آتے ہیں تو ان کی ٹوٹی ہوئی خراب اور نا قابل اعتبار لوہے کی بنی ہوئیں تلواریں بھی ان کافروں کی تلواروں کے مقابلہ میں محض خدا تعالیٰ کے فضل سے عملاً سخت نظر آتی ہیں۔کیونکہ ان کی کاٹ زیادہ نظر آتی ہے۔اسی طرح جب یہ لوگ دلائل حقہ کے ساتھ کافروں کے باطل عقائد اور ان باطل عقائد کے حق میں باطل دلائل کا مقابلہ کرتے ہیں تو ان کے منہ بند کر دیتے ہیں اور جب کا فرلوگ مختلف قسم کی رسوم اور بدعات کے ذریعہ اور مختلف قسم کی لالچ دے کر ان کو راہ صداقت سے ہٹانا چاہتے ہیں تو یہ لوگ ان کا اثر قبول نہیں کرتے (آعِزَّةٍ عَلَى الْكَفِرِينَ ) فرمایا کہ ہم جو ایسے گروہ سے محبت کا سلوک کرتے ہیں تو اسی لئے کہ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی پوری طاقت اور پوری قوت اور اپنے پورے وسائل اور تمام تدابیر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرتے ہیں۔اس کے راستہ میں مجاہدہ کرنے والے ہوتے ہیں۔وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لاپ اور کسی موقع پر بھی کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف ان کے دل میں پیدا نہیں ہوتا وہ یہ نہیں خیال کرتے کہ ہماری برادری کیا کہے گی وہ صرف یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارا رب کیا کہے گا۔ان کے دلوں میں یہ خوف پیدا نہیں ہوتا کہ جس ماحول میں ہم رہ رہے ہیں