انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 47
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۷ سورة المائدة ناسمجھوں کے نزدیک آسان ہو جائے اور اس طرح شرارت پیدا ہو اور اسلام میں ضعف پیدا ہو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین کے زمانہ میں جب روم فتح ہوا تو وہاں ایک جماعت مسلمانوں کے ساتھ ایسی شامل ہو گئی۔جب ایران فتح ہوا تو مسلمانوں کے ساتھ ایسی جماعت شامل ہو گئی۔جب پین فتح ہوا تو وہاں بھی مسلمانوں کے ساتھ ایسے لوگ شامل ہو گئے جو مسلمانوں کی طرح لباس پہنے والے، مسلمانوں کی طرح باتیں کرنے والے، مسلمانوں کی طرح اپنے اعتقادات کو قرآن کریم کی تعلیم پر قائم کرنے کا اظہار کرنے والے تھے لیکن تاریخ اس قسم کے فتنوں سے بھری ہوئی ہے۔اندر سے وہ دشمن تھے اور اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے اور کرتا رہا کہ ان کی اسلام دشمنی ظاہر ہوتی رہی اور ہمیشہ ہی وہ خدا کی نگاہ میں اور اس کے پیاروں کی نگاہ میں حقارت کے اور بے عزتی کے مقام کو حاصل کرتے رہے۔اسلام کے لئے جو انہوں نے چاہا اپنے نفسوں کے لئے اسی بے عزیتی اور حقارت کو انہوں نے پایا۔ہمیں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ دشمن کا یہ فتنہ تو جاری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی اس سے پاک نہیں رہا آئندہ بھی کوئی زمانہ اس قسم کے شر پسندوں سے پاک نہیں ہوگا۔اس لئے اے مخلصین اُمت مسلمہ! تمہارے لئے اصولی طور پر ایک ہی ہدایت ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور آپ کے اُسوہ اور سنت پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے رہنا۔اگر تم ایسا کرو گے تو پھر تم ایسے لوگوں کے فتنہ سے خود بھی بچو گے اور دوسروں کو بھی بچاؤ گے۔پس سنت نبوی کو تم مضبوطی سے پکڑو۔تم پر یہ فرض عاید کیا گیا ہے کہ ایسے فتوں سے اپنے نفس کو بھی بچاؤ اور اپنے بھائیوں کو بھی بچاؤ اور کسی قسم کی کمزوری یا گھبراہٹ کا اظہارنہ کرو۔تمہارے دل اس یقین پر قائم ہونے چاہئیں کہ اس قسم کے فتنے الہی جماعتوں کو مضبوط کیا کرتے ہیں انہیں کمزور نہیں کیا کرتے۔دوسرے تمہارا یہ بھی فرض ہے کہ جیسا کہ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خزمی اس دنیا میں ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے رُسوائی اور بے عزتی اور کم قعتی کا مقام بنایا ہے۔تمہاری نگاہ میں بھی وقعت کا کوئی مقام انہیں حاصل نہ ہو بلکہ خذمی کا جو مقام خدا تعالیٰ نے اسلام کے دشمنوں کے لئے مقدر کیا ہے اسی مقام پر تم انہیں دیکھو اور ویسا ہی ان سے سلوک کرو اور مطہر نہ سمجھو کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ