انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 546
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۴۶ سورة الحج اللہ تعالیٰ منتخب گروہ میں تمہیں شامل کرے گا اور اس کی نگاہ میں تم مسلمان ہو جاؤ گے اور ثمرات اسلام حاصل کرنے والے ہو گے اور دنیا کی کوئی طاقت، دنیا کی ساری طاقتیں مل کر بھی ان ثمرات اسلام سے تمہیں محروم نہیں کر سکیں گی اور اس کے بعد پھر تمہیں کسی کی پرواہ نہیں ہونی چاہیے۔کسی چیز کی پرواہ نہیں ہونی چاہیے اگر تم اس عظمت کو سمجھنے لگو۔ہر ایک کا احترام کرو تمہیں جو لوگ گالیاں دیتے ہیں ان کے لئے دعائیں کرو ، جو ایذا پہنچاتے ہیں ان کے دکھوں کو دور کرنے کی کوشش کرو وَ افْعَلُوا الْخَيْرَ میں یہ ساری چیزیں آئی ہوئی ہیں لیکن جو خدا تعالیٰ سے تمہیں ملے گا وہ ہر دوسری شے سے تمہیں غنی کر دے گا۔تمہیں اس کی احتیاج نہیں رہے گی۔خدا کرے کہ آپ اپنے مقام کو سمجھیں اور خدا کرے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے کہ ایسے اعمال کرنے والے ہوں کہ جن اعمال کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ آپ پر رحم کرے یعنی وہ مقبول ہوں۔خدا کو وہ پیارے ہوں۔جس کے نتیجہ میں خدا آپ کے قرب میں آنے میں یعنی آپ کے قریب آنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے کیونکہ وہ پاک ہے اور غیر پاک کے پاس اصطلاحی زبان ہے ویسے تو وہ ہر جگہ ہے۔اصطلاح میں ہم کہتے ہیں وہ پاک ہے ، پاک کو پسند کرتا ہے، پاک ہی کو اس کا قرب ملتا ہے۔ہمیں ثمرات اسلام مل رہے ہیں۔کثرت سے مل رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر و جو وہ دے رہا ہے وہ ہمارے اعمال کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے۔ناشکرے نہ بنیں، غیروں کی تقلید نہ کریں، دوسروں کے گند میں نہ پھنسیں ، اپنی نسلوں کی عزت و احترام کی حفاظت کا سامان پیدا کریں۔باہر آپ کے لئے کمائی کے دروازے کھلے ہیں۔وہاں جا کے بعض گند میں دھنس جاتے ہیں۔اس سے بچیں۔اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرتا چلا جائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں ہماری نسل کی زندگی میں اسلام ساری دنیا میں غالب آ جائے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ہر انسان بھیجنے لگے سوائے چند استثنیٰ کے۔اللہ تعالیٰ اس میں ہمیں کامیاب کرے اور اپنے فضلوں کا ہمیں وارث بنائے۔یہ میں بتادوں کہ آپ جا کے خود غور کریں۔ان دو آیات میں بہت بڑا مضمون ہے۔میں نے بڑا مختصر ایک قسم کے عنوان ہی یہاں آپ کو بتائے ہیں۔خود جا کر غور کریں اس پر۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۴۶۱ تا ۴۶۸)