انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 547 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 547

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۴۷ سورة الحج غرض خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اور اس کے نزدیک تم مسلمان ہو اور اس نے پہلے انبیاء علیہم السلام کو بھی یہ خبر دی تھی کہ امت مسلمہ پیدا ہونے والی ہے۔چنانچہ پہلوں نے بھی تمہارا نام مسلمان رکھا اور قرآن کریم نے بھی تمہارا نام مسلمان اور مومن رکھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ( الانعام : ۱۶۴) اور أَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ (الاعراف: ۱۴۴) کے الفاظ کہلوائے اس کا مطلب یہی ہے کہ امت محمدیہ مسلمین مومنین کی امت ہے۔اس آیہ کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ تمہیں مسلمان قرار دیتا ہے اور تمہارے اسلام کا اعلان کرتا ہے اس لئے کہ تم نمازیں پڑھتے ہو ، تم زکوۃ دیتے ہو تم اللہ تعالیٰ سے پختہ تعلق رکھتے ہو۔تم اس بات پر یقین کے ساتھ قائم ہو کہ خدا تعالیٰ سے جب تمہارا پختہ تعلق قائم ہو جائے تو پھر تمہیں کسی اور ہستی کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ هُوَ مَوليكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ (خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۱۳۰۱۲۹)