انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 545 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 545

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۴۵ سورة الحج ایک مثال آپ کو سمجھانے کے لئے بتا رہا ہوں۔ہر وہ انسان جو یہ دعویٰ کرے اور ایسا کر دکھائے کہ جسے وہ مسلمان کا لقب عطا کرے اس پر فرشتوں کا نزول کروانا۔اس کے حکم سے اس کے اوپر فرشتوں کا نازل ہو جانا، یہ اس کے اختیار میں ہوگا۔یہ ہو ہی نہیں سکتا اس واسطے میرا اور تیرا کام نہیں کہ کسی کو مسلمان کہو یا یہ کہو کہ تم مسلمان نہیں ہو۔یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ نے کہا یہ یہ کام کرو۔مقبول ہوں گے۔مقرب بن جاؤ گے اجتبسم میں تمہیں چن لوں گا اپنے لئے تم میرے مقرب بن جاؤ گے اور جب مقترب بن جاؤ گے پھر میں تمہیں ایک لقب دوں گا هُوَ سَشْكُمُ الْمُسْلِمِينَ اور پہلی آیت کے آخر میں بھی ، دوسری آیت کے آخر میں بھی انعام بتایا ہے۔فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ حقیقی معنی میں اس کے غلام ہو گے تو وہ اتنا پیارا آقا بنے گا کہ تمہاری عقل دنگ رہ جائے گی کہ خدا تعالیٰ اپنے حقیر بندہ سے اس قسم کا پیار بھی کر سکتا ہے لیکن وہ کر سکتا ہے، کرتا ہے اور کرے گا۔وَنِعْمَ النَّصِيرُ اور بہترین مددگار، ہر موقع پر تمہارے ساتھ کھڑے ہو کر تمہاری مدد کر نے والا اپنے فرشتوں کے ذریعہ سے۔پس دنیا میں مختلف خیال پھیل جاتے ہیں اور پھیلے ہوئے ہیں۔احمدی سے میں اس وقت مخاطب ہوں اور یہ کہہ رہا ہوں کہ تم اس مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کرو جس مقام کی طرف یہ آیات اشارہ کر رہی ہیں۔خدا تعالیٰ کے حقوق ادا کرو اور ہمارے بزرگوں نے بھی جو پہلے گزرے انہوں نے بھی یہی کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے بھی ہمیں یہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ اس کی وحدانیت کو ہم سمجھیں اور کسی قسم کا کوئی شرک نہ کریں یعنی عرفانِ باری تعالیٰ کو اور اس کی عظمتوں کو سمجھنے کے بعد بس اسی کے ہو جا ئیں اور کسی غیر کی طرف ہماری نگاہ نہ اٹھے۔اور حقوق العباد کے معنی یہ ہیں وَافْعَلُوا الخَیر میں حقوق العباد سے بھی آگے نکلتا ہے اسلام، رحمتہ للعالمین میں نے کئی دفعہ تفصیل سے بتایا ہے جو انسانوں سے باہر کی دنیا ہے مثلاً جانور ہیں ان کے حقوق بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتائے اور ان کی حفاظت کا سامان کیا۔پس خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر قائم ہونا ، معرفتِ ذات وصفات باری تعالیٰ پر منحصر ہے۔ہر قسم کے شرک سے بچنا، ہزار ہا قسم کے شرک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں گنوائے ہیں۔وہ آپ پڑھیں اور اس قسم کے شرک سے بچیں۔اگر آپ ایسا کر لیں اور اعمال مقبول ہوں تو