انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 544 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 544

۵۴۴ سورة الحج تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث رڈ کر دیا۔میرے اس حکم کو تم نے رڈ کر دیا۔میرے اس حکم کو تم نے رڈ کر دیا۔اس کی وہ جواب دہی ہوگی۔یہاں یہ فرمایا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ جواب طلبی کرے گا۔لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ گواہی دے گا کہ اس شخص نے اپنی تمام قوتوں کی نشو و نما اور ان کے استعمال کے لئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوشِ قدم کی تلاش کی اور ان پر چلا اور جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے الہی بشارتوں کے نتیجہ میں اپنی بڑی عظمتوں کے ساتھ یعنی جو فضل اور رحمتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں، وہ بہت بڑی عظمتوں والی تھیں۔کوئی دوسرا انسان تو ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن ہر شخص اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کو وہ شخص حاصل کر سکتا ہے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے والا ہو اور اسی کو اسلامی اصطلاح ثمرات اسلام کہتی ہے۔خدا تعالیٰ مددگار ہے ضرورت کے وقت۔خدا غموں کو دور کرنے والا ہے ابتلاؤں کے وقت۔خدا دولت میں برکت ڈالنے والا ہے حاجات اور فقر کے وقت۔وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَ بَاطِنَةً (القمن : ۲۱) کہ بارش کے قطروں کی طرح آسمان سے ظاہر ہوتی ہیں۔بڑا محروم اور قابل رحم ہے وہ دماغ جو سمجھتا ہے کہ اسلام کے ثمرات آج نہیں ملتے۔وقت کی کوئی قید تو نہیں لگائی گئی تھی اس آیت میں اَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً - قیامت تک ہر وہ شخص جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والا ہے، خدا تعالیٰ کی نعمتوں سے محروم نہیں رہ سکتا۔تضاد ہے ان دو خیالات میں۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو نمونہ ہمارے سامنے رکھا، وہ یہ تھا کہ اس صراط مستقیم پر چلو خدا تعالیٰ تک پہنچ جاؤ گے۔جب خدا تعالیٰ تک پہنچ جاؤ گے تو تمہاری ضرورت ، تمہاری طاقت ، تمہاری صلاحیت ، تمہارے مقبول اعمال کے مطابق تمہیں نتیجہ دے گا۔جس طرح حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت عظیم اعمال صالحہ کے مطابق عظیم نتیجہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے دے دیا۔فرما یا هُوَ سَتكُمُ المُسْلِمِین اس میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ کسی شخص کو مسلمان کا نام دینا صرف اس ہستی کا کام ہے جو اسلام کے ثمرات دے سکے۔قرآن کریم نے ایک جگہ فرمایا تھا کہ جو شخص استقامت سے کام لے گا اور باوفا ہو گا۔ثبات قدم رکھے گا۔تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَكَةُ (حم السجدة : ۳۱) ملائکہ اس کے اوپر نازل ہوں گے۔یہ میں صرف