انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 531 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 531

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۳۱ مورة الحج بہر حال عبادت جو ہے وہ روح کے بغیر ایک بے حقیقت اور بے نتیجہ چیز ہے اور اس کا کوئی ثمرہ ظاہر نہیں ہوتا اور انسان کو اس کا کوئی پھل حاصل نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ بڑے مختصر الفاظ میں لیکن بڑے زور کے ساتھ عبادت کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں :۔”انسان خدا کی پرستش کا دعوی کرتا ہے مگر کیا پرستش صرف بہت سے سجدوں اور رکوع اور قیام سے ہو سکتی ہے یا بہت مرتبہ تسبیح کے دانے پھیر نے والے پرستار الہی کہلا سکتے ہیں بلکہ پرستش اُس سے ہو سکتی ہے جس کو خدا کی محبت اس درجہ پر اپنی طرف کھینچے کہ اُس کا اپنا وجود درمیان سے اُٹھ جائے۔اوّل خدا کی ہستی پر پورا یقین ہو اور پھر خدا کے حسن و احسان پر پوری اطلاع ہو اور پھر اُس سے محبت کا تعلق ایسا ہو کہ سوزش محبت ہر وقت سینہ میں موجود ہو اور یہ حالت ہر ایک دم چہرہ پر ظاہر ہو اور خدا کی عظمت دل میں ایسی ہو کہ تمام دنیا اس کی ہستی کے آگے مُردہ متصور ہو اور ہر ایک خوف اُسی کی ذات سے وابستہ ہو اور اُسی کی درد میں لذت ہو اور اُسی کی خلوت میں راحت ہو اور اُس کے بغیر دل کو کسی کے ساتھ قرار نہ ہو۔اگر ایسی حالت ہو جائے تو اُس کا نام پرستش ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۴) پس جو آیت میں نے ابھی تلاوت کی ہے اس میں بنیادی نکتہ وَاعْبُدُوا رَبَّكُمُ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ایمان والو! تم نے ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک عظیم ذمہ داری اپنے کندھوں پر یہ اُٹھائی ہے کہ تم ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو گے اور جس بات کی طرف ہم تمہیں جلاتے ہیں اور جس پر ایمان لانے کا ہم تمہیں کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اپنے رب کی عبادت کرو۔عبودیت تامہ کے حصول کی کوشش کرو اور اسی میں ہمہ تن لگے رہو اور اس کی طرف ہمیشہ متوجہ رہوتا کہ تم خدا تعالیٰ کے ایک سچے بندے اور حقیقی عبد بن جاؤ۔چنانچہ عبودیت تامہ کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس مذکورہ آیہ کریمہ میں دو بنیادی باتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ایک ہے تہی ہونا جس کی طرف یایھا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا کے الفاظ میں رکوع کی طرف اشارہ ہے۔رکوع کے معنی تذلل اور عاجزی اختیار کرنے کے ہیں۔یعنی انسان خود کو بھی اور اپنے جیسوں کو بھی