انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 532
۵۳۲ سورة الحج تفسیر حضرت خلیفہ مسح الثالث انتہائی طور پر عاجز تصور کرے اور اپنے میں کوئی طاقت نہ پائے اور ہر قسم کی طاقت اور قوت اور ہر قسم کی خیر اور بھلائی کا منبع وسر چشمہ اللہ تعالیٰ کو سمجھے۔خدا کے سوا ہر چیز میں اسے نقص ہی نظر آئے خوبی نظر نہ آئے۔اس کی نگاہ میں ہر خوبی اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والی ہو۔یعنی وہ اس یقین پر قائم ہو کہ جس جگہ کوئی حسن یا جس جگہ کوئی احسان کا جلوہ یعنی آگے فائدہ پہنچانے کی طاقت اُسے نظر آتی ہے وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتی ہے کیونکہ یہ اُسی کے حسن کا پر تو اور اسی کے احسان کا ایک رنگ اور جلوہ ہے۔پس حقیقی عبادت کے لئے پہلا مطالبہ یہ کیا گیا ہے کہ انسان عاجزانہ راہوں کو اور تذلل کی راہوں کو اختیار کرے یعنی خود کو کچھ بھی نہ سمجھے اور دنیا کی ہر مخلوق کو ایک مُردہ چیز تصور کرے اور خیر اور بھلائی کا سر چشمہ اور منبع سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کسی اور کو نہ سمجھے۔پس ماسوائے اللہ کے ہر چیز کی نفی وجود ہے۔حقیقتا اللہ تعالیٰ ہی باقی ہے دنیا میں یہ مختلف چیزیں تو دراصل اس کی صفات کے جلوے ہیں جو در اصل كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنِ (الرَّحْمن :۳۰) کے مصداق ہیں۔اللہ تعالیٰ ایک جلوہ دکھاتا ہے پھر اس کو مٹا دیتا ہے اور پھر ایک اور جلوہ دکھاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے اِن جلوؤں کو ایک چکر دیتا ہے۔چنانچہ اس طرح اس کی مخلوق کے مختلف پہلو سامنے آ جاتے ہیں۔مثلاً بچہ پیدا ہوتا ہے وہ پیدائش والے دن بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کے بہت سے جلوے دکھا رہا ہوتا ہے۔وہ محبت جو انسان کی فطرت میں اپنے رب کے لئے ہے اس محبت کی ظاہری اور مادی شکل پیدائش کے وقت بچے میں ہمیں نظر آتی ہے کہ وہ بے اختیار اپنی ماں کی طرف لپکتا ہے حالانکہ اُس وقت نہ وہ کسی سکول میں گیا ہوتا ہے اور نہ کوئی کلاس Attend ( اٹنڈ) کی ہوتی ہے لیکن یہ اس کی طبیعت میں اور اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسے سکھائی گئی ہے کہ وہ پیدا ہوتے ہی بزبانِ حال اپنی والدہ سے اپنی زندگی اور بھلائی اور خیر کی بھیک مانگنے لگ جاتا ہے اس کو بتایا گیا ہے کہ تو بھی فانی، تیری ماں بھی فانی ان کے ساتھ میں نے جب تیری بھلائی وابستہ کر دی ہے تو میں جو ہمیشہ حالی اور ہمیشہ قیوم ہوں اور میں جو سر چشمہ ہوں ہر قسم کی خیر کا اور منبع ہوں ہر قسم کی بھلائی کا ، میری طرف اپنی ماں سے بھی زیادہ رجوع کرو اور میرے ساتھ اپنے ماں باپ سے بھی زیادہ گہرے اور شدید اور حقیقی اور سے تعلق کو قائم کرو تا کہ تم ہر قسم کی خیر اور برکت مجھ سے حاصل کرو۔