انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 530
۵۳۰ سورة الحج تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اس کے فائدہ کی بات ہے وہ سننے کے لئے تیار۔ایک لڑائی ہو جاتی ہے۔مادی دلچسپیوں کی روحانی حقائق کے ساتھ۔اور عقل جو ہے وہ مادی دلچسپیوں میں کھوئی جاتی ہے اور گم ہو جاتی ہے اور ختم ہو جاتی ہے اور مرجاتی ہے اور جس غرض کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے اس غرض کو وہ پورا نہیں کر رہی ہوتی یا اسے خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کی بتائی ہوئی ہدایت کے مطابق عمل کرنے کے نتیجہ ( خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۱۸۲) میں حیات ملے۔آیت ۷۸ ۷۹ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَ جَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجتَبكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَفِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَ تَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ فَاقِيمُوا الصَّلوةَ وَأتُوا الزَّكوة وَاعْتَصِمُوا بِاللهِ هُوَ مَوْلَكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ b پس بہت سے ظاہری سجدے کرنا اور روزے رکھنا یا اسراف کرتے ہوئے اموال کو خرچ کرنا اور ظاہر یہ کرنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے ہے حالانکہ دل میں در حقیقت اس سے دنیا کو خوش کرنا مقصود ہو تو اس طرح کی عبادت وغیرہ کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لینے کے مترادف ہے۔پس صرف ظاہر پر زور دینا مناسب نہیں ہے۔یہ صحیح ہے کہ ظاہر کی اپنی ایک قیمت ہوتی ہے اور اس کا اپنا ایک فائدہ ہوتا ہے جس طرح اس مادی دنیا میں پھل بغیر چھلکے کے نہیں ہوتے اسی طرح روحانی دنیا میں بھی کوئی لذت اور سرور اور لذت اور سرور کا کوئی ذریعہ اور وسیلہ بھی بغیر چھلکے کے نہیں ہوتا۔اس کا بھی ایک ظاہر ہوتا ہے۔پس یہ درست ہے کہ باطن کے ساتھ ظاہری پاکیزگی کا جو تعلق ہے وہ بھی قائم رہنا چاہئے لیکن مغز اور حقیقت بہر حال باطن ہے۔بہر حال روح ہے، بہر حال ابدی صداقت ہے جو اللہ تعالیٰ میں ہو کر انسان حاصل کرتا ہے اور جو یہی ہے کہ خدا ایک ہے اور ہر خیر اور خوبی اُسی سے انسان حاصل کر سکتا ہے کسی دوسرے کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔