انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 447
۴۴۷ سورة الكهف تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث انسانوں میں اپنے روحانی فیوض کے لحاظ سے زندہ ہیں اور موجود ہیں۔اس اتنی عظیم کتاب اتنی عظیم آیات جس کا ایک ایک لفظ جو ہے وہ انسان کو حیران کر دیتا ہے اتنی ہدایتیں، اتنی خوبصورتیاں،حسن پاک کرنے کی اتنی طاقت، اتنا جذب ان کے اندر ہے لیکن اس کو پہچانا نہیں انہوں نے۔اَخْسَرِينَ اعمالا تو ثابت ہو گیا۔خدا کے نزدیک بدترین عمل کے لحاظ سے وہ لوگ ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں جو ایت رَبِّهِمْ ہے۔خدا تعالیٰ نے اس لئے ان آیات کو ظاہر کیا تھا کہ ان کی جسمانی اور روحانی تربیت کرے، ربوبیت کرے ربّ ہے وہ ان کا۔اس لئے کیا تھا کہ وہ اس کے نتیجہ میں اس کے پیار کو اس کی رضا کو اور اس کی رضا کی جنتوں کو حاصل کریں۔ایک ابدی جنت ان کے نصیب میں ہو جہاں خیر ہی وہ چاہیں گے اور ہر خیر جو وہ چاہیں گے وہ ان کو ملے گی۔بڑی عجیب ہے وہ دنیا جسے ہم آج سمجھ نہیں سکتے ہماری طاقت میں نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ ہماری یہ آنکھ، نہ ہمارے یہ کان ، نہ ہمارا یہ دماغ اسے سمجھ سکتا ہے لیکن تمثیلی زبان میں اشارے اس کی طرف کئے گئے ہیں۔وہ اس کی حقیقت کو اس زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پیار کو جو وہاں جانے والے حاصل کریں گے ہر آن رفعتوں کے حصول کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے ہمیں کچھ دھندلا سا نقشہ اس زندگی میں بتایا ہے اور پھر یہاں پیار کر کے بتایا ہے کہ اس زندگی میں جب میں پیار کرتا ہوں تمہاری امتحان کی ابتلا کی زندگی میں تمہاری غلطیوں اور کوتاہیوں اور غفلتوں اور گناہوں کے باوجود جہاں ہر قسم کے گناہوں سے خدا تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ پاک کر کے بھیجے گا اس کا تو نقشہ ہی کچھ اور ہوگا۔بہر حال یہ ان لوگوں کا بیان ہے ان آیات میں جو اپنے اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ گرے ہوئے ہیں خدا تعالیٰ کی نگاہ میں۔( خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۸۵ تا ۴۹۱) تاہم دنیا میں ایک وہ انسان ہے جو دُنیا کے لئے دُنیا کماتا ہے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا ہے۔ضَلَّ سَعْيُهُمُ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا یعنی ان کی تمام تر کوشش اس دُنیوی زندگی کے لئے ہوتی ہے۔ان کے مقابلے میں ایک وہ انسان ہے جو دین کی خاطر اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال قربان کرنے کے لئے دُنیا کماتا ہے۔اب جہاں تک دُنیا کے کمانے کا سوال ہے۔دونوں برابر ہیں لیکن جہاں تک دولت کے خرچ کرنے کا سوال ہے ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے کیونکہ ایک تو