انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 448 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 448

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۴۸ مورة الكهف دنیا کما کر زمینی بن گیا اور دوسرے نے دُنیا کمائی اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے۔اس لئے ہر دو میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔پس رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کی جب دُعا سکھائی گئی تو اس کے ایک معنے یہ ہوئے کہ ہم خدا سے یہ کہیں کہ اے خدا! ہم نے انتہائی محنت اور انتہائی تدبیر کر دی دُنیا کمانے کے لئے ہم نے اپنی تد بیر کو انتہا تک پہنچا دیا اور اسی طرح دعا کو بھی انتہا تک پہنچا دیا ہے اور اب اس مقام پر کھڑے ہو کر ہم یہ کہتے ہیں ربنا اتنا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کہ اے ہمارے رب ! ہماری تدبیر اور ہماری دُعا تیرے فضل اور تیری رحمت کے بغیر نتیجہ نہیں پیدا کر سکتی اس لئے تو اپنے فضل سے اس کا نتیجہ پیدا کر اور اس دُنیا کی حسنات میں ہمیں شریک اور حصہ دار بنا اور ہمیں اس کا وارث قرار دے تاکہ ہم دُنیا کی نعمتوں کو حاصل کر کے اور پھر ان نعمتوں کو تیری راہ میں قربان کر کے اپنی روحانی اور اُخروی حسنات کے لئے سامان پیدا کریں۔غرض حقیقت یہی ہے کہ دُنیا کی حسنات کے بغیر اُخروی حسنات مل نہیں سکتیں۔میں اس کی ایک مثال دے دیتا ہوں تا کہ بچے بھی سمجھ جائیں۔جو شخص دُنیا کی حسنات سے کلی طور پر محروم ہو جاتا ہے اس کے اوپر روحانی حکم لگتا ہی نہیں۔اس کے متعلق لوگ کہہ دیتے ہیں کہ وہ پاگل ہے۔اس لئے جہاں تک ایک مجنون کی دنیوی حسنات کے بارے میں محنت اور کمائی کا تعلق ہے یا اس کی کوشش اور مجاہدہ کا سوال ہے وہ یہ کام کر ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ پاگل ہے۔اس لئے ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جسم اور زندگی بخشی۔اللہ تعالیٰ نے اس کو بھائی دیئے ، اس کو دوست دیئے اور اس کے اردگرد خیال رکھنے والے انسان بنائے۔چنانچہ وہ اس کا خیال رکھتے ہیں لیکن جہاں تک اس کی اپنی طاقتوں کا سوال ہے۔اس کی کسی طاقت کے او پر کوئی حکم نہیں چلا سکتا۔وہ اپنے جنون میں کسی آدمی کو قتل کر دیتا ہے تو جج کہتا ہے کہ پاگل تھا اس سے قتل ہو گیا۔ظلم ہو گیا لیکن اس کے اوپر کوئی الزام نہیں پس جو شخص مجنون ہے اس کے لئے دنیوی حسنات کی کمائی کے دروازے بند ہیں اور چونکہ دُنیوی حسنات کی کمائی کے دروازے اس کے لئے بند ہیں اسی لئے اُخروی حسنات کی کمائی کا دروازہ بھی اس کے لئے نہیں کھولا جائے گا۔پس ہم ایسے شخص کو مرفوع القلم کہہ دیتے ہیں۔ہم اس پر نہ نیکی کا حکم لگاتے ہیں اور نہ بدی کا ، نہ