انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 446 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 446

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۴۶ سورة الكهف تھی اس دنیا کی اسی کو سب کچھ سمجھ لیا اور ابدی خوشیوں کو اس عارضی خوشی پر قربان کر دیا۔حَبِطَتْ اعْمَالُهُمْ ان کے اعمال گر کر اسی دنیا کے ہو کر رہ گئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لیکن صرف یہ زندگی تو نہیں۔اس کے بعد ایک اور زندگی ہے اور اس کو قرآن کریم کی اصطلاح میں قیامت کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے یعنی مرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِيَامَتُه کہ جو شخص انفرادی طور پر مرے اسی وقت اس کی ایک قیامت ہو جاتی ہے لیکن ایک وہ ہے جب حشر ہوگا اور سارے اکٹھے کئے جائیں گے اور خدا کا پیار حاصل کریں گے یا اس کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن ان کے وہ اعمال جو دنیا کے لئے کئے گئے ہوں گے اور جن کے نتیجہ میں خدا کے پیار کو حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہوگی بے وزن ہوں گے ان کا کوئی وزن نہیں ہوگا ، بے نتیجہ ہوں گے ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ، لا حاصل ہوں گے ان سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔زندگی کا مقصد تھا کہ خدا تعالیٰ کے عبد بنتے ، اس کے پیار کو حاصل کرتے ، ابدی جنتوں کے وارث بنتے وہ ان کے وارث نہیں بنیں گے۔یہ ہے جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ یہ جہنم ہے یعنی کہا کہ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ وَزْنا قیامت کے دن ہمارا پیارا نہیں حاصل نہیں ہوگا۔ذلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ یہ جہنم ان کی جزا ہے اور اس لئے ہے کہ انہوں نے انکار کیا آیات کا۔خدا تعالیٰ نے جو دو قسم کی آیات جیسا کہ میں نے بتایا نازل کی تھیں انسان کی ہدایت کے لئے ایک اپنے ان جلووں کے ذریعے جو اس نے کائنات میں کئے اور جن سے اس کی عظمت ثابت ہوتی ہے، جن سے ہمیں یہ پتا لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا اپنی مخلوق کے ہر ذرے کے ساتھ ایک ذاتی اور ہمیشہ رہنے والا تعلق قائم ہے جس سے ہمیں پتا لگتا ہے کہ ایک لحظہ کے لئے اگر خدا تعالیٰ کا یہ قرب نہ ہو اس حي و قيوم کا تو فتا آ جائے اس چیز پر جس سے وہ قطع تعلق کرتا ہے۔وہ ہلاکت ہے وہ عدم بن جاتا ہے اس کے لئے۔تو چونکہ انہوں نے کائنات میں ظاہر ہونے والے جلووں کا انکار کیا اور جو روحانی ارتقاء کے لئے اور روحانی رفعتوں کے حصول کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کے لئے انبیاء علیہم السلام اور اب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔نوع انسانی کے لئے صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ان کی بھلائی کے لئے اب ایک زندہ نبی کی صورت میں قیامت تک