انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 441 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 441

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۴۱ سورة الكهف کا فر ہو تو اب جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں کہتا ہوں تم کا فر ہو وہ گویا اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا بنا تا ہے۔پس اللہ تعالیٰ دماغ کو عقل اور سمجھ عطا کرے۔ہمارا کام غصہ کرنا نہیں ہمارا کام دعائیں کرنا اور پیار سے سمجھانا ہے۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۲۲۰ تا ۲۲۷) پھر جیسا کہ میں نے بتایا یہاں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ جو نیکی ہے اس کا بدلہ تو خدا تعالیٰ نے دینا ہے اگر میں یا آپ کسی پر جبر کر کے اس سے نیکی کے کام کروائیں تو وہ میرے سامنے ہاتھ پھیلائے گا نا کہ مجھے بدلہ دوستم نے جو مجھ سے یہ کام کروائے ہیں مجھے خدا کی رضا کی جنتوں کا پروانہ لکھ کے دو۔تو کون ایسا انسان ہے جو کسی دوسرے انسان کو ایسے پروانے لکھ کے دینا شروع کر دے اور خدا تعالیٰ ان کو مان بھی لے۔بدلہ تو خدا نے دینا ہے اور خدا ظاہری اعلان کو دیکھ کر تو بدلہ نہیں دیتا۔خدا تعالیٰ تو ، بعض بد بخت ایسے لوگ بھی ہیں کہ جن کے اعمال انسان کی نگاہ میں بڑے پیارے اور مخلصانہ ہوتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ انہیں قبول نہیں کرتا بوجہ کسی ایسی خباثت کے جو ان اعمال کے پیچھے پوشیدہ ہوتی ہے اور ان کے منہ پر مار دیئے جاتے ہیں ان کے اعمال نامے۔حدیثوں میں کثرت سے اس کا ذکر ہے تو جس نے بدلہ دینا ہے اور جو علام الغیوب ہے اور جس پر کوئی زبردستی کر کے اس کے قانون اس کی خواہش اور منشاء کے خلاف کچھ کر وا نہیں سکتا۔اس سے کیسے جزا دلوائی جاسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو مَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَ مَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ کا اعلان کیا۔خدا تعالیٰ نے تو یہ کہا کہ اپنی مرضی سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ اور مجھ سے اگر پیار حاصل کرنا چاہتے ہو تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کرو، اپنی مرضی سے لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ تم پر کوئی زبر دستی نہیں ہے۔مسلمان ہونے کے بعد بھی کوئی زبردستی نہیں کیونکہ اگر مسلمان ہونے کے بعد کوئی زبردستی ہوتی تو اسلام کے اندر نہ فاسق کوئی ہوتا نہ منافق کوئی ہوتا۔اپنی مرضی سے اخلاص کے ساتھ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت جو کامل محبت کا تقاضا کرتی ہے جس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کا پیار ملتا ہے اس کی معرفت ملتی جس کے نتیجہ میں خدا کا عرفان حاصل ہوتا خدا کے لئے دل میں محبت کا ایک سمندر موجزن ہو جاتا ہے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ اس قابل سمجھتا ہے اس پاک بندے کو جو اس پاک کی خاطر خود کو پاک بناتا ہے کہ اس سے وہ پیار کرے اپنی رضا کی جنتوں میں اسے داخل کرے تو لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ۔(خطبات ناصر جلد هشتم صفحه ۱۲۱، ۱۲۲)