انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 442 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 442

تفسیر حضرت خلیفتہ المسح الثالث ۴۴۲ سورة الكهف آیت ۱۰۴ تا ۱۰۷ قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالات الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعَان أولبِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَيْتِ رَبِّهِمْ وَلِقَابِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيْمَةِ وَزْنًا ذَلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا وَ اتَّخَذُوا أَيْتِي وَرُسُلِى هُرُوا تفسیر صغیر میں اس کا ترجمہ یہ ہے۔تو (انہیں) کہہ ) کہ ) کیا ہم تمہیں ان لوگوں سے آگاہ کریں جو اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے ہیں۔(یہ وہ لوگ ہیں ) جن کی ( تمام تر ) کوشش اس ورلی زندگی میں ہی غائب ہوگئی اور (اس کے ساتھ ) وہ (یہ بھی) سمجھتے ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے نشانوں کا اور اس سے ملنے کا انکار کر دیا ہے اس لئے ان کے (تمام) اعمال گرکر (اسی دنیا میں ) رہ گئے ہیں۔چنانچہ قیامت کے دن ہم انہیں کچھ بھی وقعت نہیں دیں گے۔یہ ان کا بدلہ (یعنی) جہنم اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے کفر ( کا طریق) اختیار کیا اور میرے نشانوں اور میرے رسولوں کو (اپنی) ہنسی کا نشانہ بنالیا۔سورۃ کہف کی ان آیات میں دس باتیں بیان کی گئی ہیں۔پہلی بات یہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں ان لوگوں کے متعلق بتائیں جو سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے ہیں اپنے اعمال کے لحاظ سے۔انسان مختلف قسموں میں بٹ جاتے ہیں اپنے اعمال کے لحاظ سے۔ایک وہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی معرفت رکھتے ہیں، ایک وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کا عرفان نہیں رکھتے ، ایک وہ ہیں جو زندہ مذہب سے تعلق رکھنے والے ہیں، ایک وہ ہیں جن کا زندہ مذہب سے تعلق نہیں ہوتا، ایک وہ ہیں جو د نیوی لحاظ سے شریفانہ زندگی گزارتے ہیں اور ایک وہ ہیں جو دنیوی معیار کے مطابق بھی بدزندگی گزارنے والے ہیں۔ہر شخص اپنے رب سے اپنے اعمال کے مطابق بدلہ پاتا اور جزا حاصل کرتا ہے اور وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ کے پیار کو اپنی قوتوں اور استعدادوں کے دائرہ کے اندر اپنی اس سعی کے مطابق جو وہ اس دائرہ میں اپنے خدا کے حضور مقبول