انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 440
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۴۰ سورة الكهف مذہبی طور پر آزادی ہے۔تم نے اپنا فیصلہ خود کرنا ہے کہ ہدایت کی راہ پر چلنا ہے یا گمراہی کو اختیار کرنا ہے۔میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں، میں تمہارا وکیل نہیں ہوں ، میرے اوپر تمہاری کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر ایک اور جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:- وَ كَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ (الانعام: ۱۷) ایک رنگ میں یہ بیان ہمارے جذبات کی تاروں کو چھیڑتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بڑی ہدایت لے کر آئے لیکن قوم نے اس پیغام کی تکذیب کر دی اور اسے جھوٹا قرار دے دیا حالانکہ هو الحق یہ تو ایک صداقت ہے یہ تو ایک سچائی ہے لیکن فرمایا:۔قُلْ لَسْتُ عَلَيْكُمْ ہوگیل اے رسول ! تم ان سے کہہ دو۔میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔یہ فیصلہ بہر حال تم نے کرنا ہے کہ آیا تم اپنی مرضی سے ایمان کا اظہار کرو گے اور ہدایت کی راہوں کو اختیار کرو گے اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایت کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے قرب کی تلاش کرو گے یا تم کفر کا اعلان کرو گے اور خدا تعالیٰ سے دُوری کی راہوں کو اختیار کرو گے۔میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔خدا تعالیٰ نے میرے اوپر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی کہ میں تم پر جبر کر کے زبردستی کے طور پر کسی مادی طاقت کے ذریعہ تمہارے اس اختیار کو چھین کر جو خدا تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے تمہیں ہدایت کی راہوں کی طرف لاؤں۔قرآن کریم سے تو یہ مسئلہ صاف ہے کوئی شخص کسی کو نہ تو زبردستی مومن بنا سکتا ہے اور نہ کسی کو زبر دستی کا فر بنا سکتا ہے اس لئے کہ ہدایت کے راستوں پر جس آدمی کی جدو جہد عند اللہ مقبول ہوگئی و ہی مومن ہوتا ہے۔پس جہاں تک ایمانیات کا تعلق ہے قبول کرنا یا نہ کرنا بندے کا کام نہیں یہ خدا کا کام ہے۔ایک شخص کہتا ہے میں خدا کا ایک عاجز بندہ ہوں اور بڑا ہی کمزور انسان ہوں۔میں خدا تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت پر ایمان لاتا ہوں۔میں مومن ہوں اور اپنی طرف سے اپنی بساط کے مطابق بڑی عاجزی کے ساتھ جتنی بھی تجھے طاقت ہے میں خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو ایسی صورت میں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اسے یہ کہے کہ نہیں ! تو ایمان نہیں لایا اور یہ کہ ہم کہتے ہیں کہ تو کافر ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعلان کرتے ہیں کہ میں کسی کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم