انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 409 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 409

۴۰۹ سورة النحل تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث میں نے بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سے جو استدلال کیا ہے۔قرآن کریم کی دوسری آیات اس کی تائید کرتی ہیں لیکن اس خیال سے کہ وقت زیادہ ہو جائے گا۔میں نے ان آیات کو لیا نہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے ویسے بڑی وضاحت سے قرآن کریم نے احسن کا لفظ اعمال کے متعلق استعمال کیا ہے جہاد کے سلسلہ میں احْسَنَ مَا عَمِلُوا (الثور :۳۹) کہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں فلاح دارین حاصل ہو اور لوگوں کے دلوں پر فتح پاؤ تو پاکیزگی اختیار کرو۔عقل سے کام لو اور کلام الہی کی ہدایات پر چلو۔خود اپنے تئیں سنوارو اور دوسروں کو اپنے اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھاؤ تب البتہ کامیاب ہو جاؤ گے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ ۴۲) تو الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بیان فرمایا ہے کہ امت مسلمہ کے وہ افراد جو دونوں ہاتھوں میں قرآن کریم کے انوار تھامے دنیا کے ملک ملک میں پہنچیں گے۔وہ ان کو صرف قرآنی دلائل ہی نہیں پہنچا ئیں گے بلکہ اپنے بہترین نمونہ سے ان کو متاثر کریں گے اور اسلام کی طرف انہیں کھینچیں گے۔خطابات ناصر جلد اول صفحه ۲۴۸ تا ۲۵۰) اللہ تعالیٰ نے انسان کی زبان کو بھی آزاد نہیں چھوڑا اس پر بہت سی پابندیاں عائد کی ہیں اور ایک مومن کا فرض قرار دیا ہے کہ وہ صرف سچ ہی بولنے والا نہ ہو ، صرف قولِ سدید کا ہی پابند نہ ہو بلکہ احسن قول کی پابندی کرنے والا ہو اور حکمت یہ بیان کی کہ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو شیطان تمہارے درمیان فساد ڈال دے گا۔يَنْزَعُ بَيْنَهُم انسان کی زبان کا اعمال صالحہ میں سے ہر عمل کے ساتھ تعلق پیدا ہو سکتا ہے اور ہر عمل کو انسان کی زبان ضائع بھی کر سکتی ہے اس لئے انسان کی زبان کو ، اس کے قول کو، اس کے اظہار کو اسلام نے بڑی ہی اہمیت دی ہے اور اسے اس طرف متوجہ کیا ہے کہ اگر تم اپنی زبان سنبھال کر نہیں رکھو گے تو اللہ تعالیٰ کے غضب کے مورد بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی بجائے شیطان کے مقرب ٹھہرو گے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی اصولی تعلیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے۔و بدبخت تر تمام جہاں وہی ہوا جو ایک بات کہہ کے ہی دوزخ میں جا گرا