انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 408
۴۰۸ سورة النحل تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث دراز کے سفروں کا شوق پیدا کیا۔اس جذبہ کے ماتحت کہ ہم نے قرآن کریم کی حسین تعلیم کو ساری دنیا میں پھیلا کے دم لینا ہے اور اس مہم میں کامیاب ہونے کے ہمیں طریق بتائے اور وہ یہ ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُدعُ إلى سَبِيلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ۔کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ کی طرف اس صراط کی طرف جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کہا گیا کہ یہ صِرَاطِئُ مُسْتَقِيمًا ہے۔اس صراط مستقیم کی طرف جس کے حاصل کرنے اور جس پر قائم رہنے کی ہمیں دعا سکھلائی گئی۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔اس راستہ کی طرف تم ساری دنیا کو بلاؤ قرآن کریم کو اپنے دونوں ہاتھوں سے مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور دنیا کے ملک ملک میں پھیل جاؤ اور وہاں تبلیغ قرآن کرو اور تبلیغ اسلام کرو۔دو دلائل تمہیں دئے گئے ہیں یا دو طاقتیں تمہیں عطا کی گئی ہیں۔ایک حکمت اور موعظہ حسنہ کی یعنی اعلیٰ ترین دلائل اور ان دلائل کو بہترین طریق پر پیش کرنے کا ملکہ۔یہ تمہیں عطا کیا گیا ہے۔یہ ایک ہی چیز کے دو حصے ہیں اور دوسرے ہم نے تمہیں عمل کی توفیق دی اور تمہیں یہ کہا کہ اپنا عملی نمونہ پیش کر کے دنیا کو قرآن کریم کی طرف بلانا۔وَجَادِلُهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اس میں عملی نمونہ پیش کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اگر تم ( جدال میں غالب آنے کے معنی بھی کوئی ایسی کوشش جس میں انسان غالب آتا ہے اور اس میں بتایا گیا ہے ) صرف دلائل لے کے ان کے پاس گئے تو وہ دلائل سے خاموش تو ہو جائیں گے لیکن فوراً وہ مطالبہ کریں گے کہ اس پاک تعلیم کا عملی نمونہ ہمیں دکھایا جائے۔کیونکہ کوئی تعلیم خود کتنی ہی حسین کیوں نہ ہواگر اس پر دنیا عمل نہ کرے تو دنیا اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی تعلیم ایسی چیز تو نہیں کہ وہ ہوا میں چکر لگاتی رہے اور دنیا اس سے فائدہ اٹھالے تعلیم تو کہتے ہی اُسے ہیں جس پر عمل کیا جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دوسری چیز ہم نے یہ دی ہے۔بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ بِالَّتِی سے مراد عمل ہے وہ عمل جو احسن عمل ہو۔صرف عمل صالح نہیں، صرف نیک نمونہ نہیں بلکہ جب بہترین نمونہ ہو گے۔تب دنیا تمہاری طرف جھکے گی اور مائل ہوگی۔بعض اپنے ماحول میں بعض لوگوں کا احسن عمل نہ بھی ہو۔صرف عمل صالح ہو تب بھی گزارہ ہو جائے گا لیکن جب آپ منکر اسلام کے سامنے جاتے ہیں۔اس وقت محض عمل صالح آپ کو فائدہ نہیں دیتا بلکہ عمل صالح میں سے جو احسن عمل ہے بہترین عمل ہے اس سے وہ اثر قبول کرتا ہے ورنہ وہ اثر قبول نہیں کرتا۔