انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 410 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 410

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۱۰ پس تم بچاؤ اپنی زباں کو فساد ڈرتے رہو عقوبت رب العباد دو عضو اپنے جو کوئی ڈر کر بچائے گا سیدھا خدا کے فضل سے جنت میں جائے گا وہ اک زباں ہے عضو نہانی ہے دوسرا ہے حدیث سیدنا سید الوری ( براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۹) سورة النحل غرض جہاں تک عام بول چال کا تعلق ہے، اظہار کا تعلق ہے، جب دوانسانوں کے درمیان واسطہ پیدا ہوتا ہے ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں، ایک دوسرے کے افسر یا ماتحت ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی نگرانی میں ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے راعی اور رعیت بنتے ہیں ، سب کے لئے خواہ وہ دنیوی لحاظ سے بالا مقام نہ رکھتے ہوں ماتحتی کا مقام رکھتے ہوں ، خواہ وہ سکھانے والے ہوں یا سیکھنے والے ہوں ، اثر انداز ہونے والے ہوں یا اثر کو قبول کرنے والے ہوں۔ہر ایک کے لئے یہ حکم دیا ہے کہ يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ جو سب سے اچھی بات ہے، جوسب سے اچھے طریقہ پر بات ہواس کی پابندی کرو ورنہ تم شیطان کے لئے رخنوں کو کھولتے ہو۔زبان سے ایک بڑا کام الہی سلسلوں میں یہ لیا جاتا ہے (اور زبان کے اندر ” قول“ کے اندر ہر قسم کا اظہار ہے ) کہ تمام بنی نوع انسان کو اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دی جاتی ہے اس لئے آج جن کو میں مخاطب کرنا چاہتا ہوں وہ صرف پاکستان سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ میرے مخاطب تمام وہ لوگ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف اپنے کو منسوب کرتے ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک میں رہائش پذیر ہیں اور میں انہیں اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ایک صداقت کو صداقت سمجھ کر قبول کیا ہے آپ اس یقین پر قائم ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ آپ کے لئے قرآنی ہدایت کی ان راہوں کی نشان دہی کی ہے جو قرب الہی تک پہنچانے والی ہیں اور آپ کے دل میں یہ درد پیدا ہوتا ہے کہ جس صداقت کو ، جس روشنی کو ، جس نور کو ، جس جنت کو ، جس نعمت کو آپ