انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 402 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 402

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۰۲ سورة النحل تو محروم ہے وَی اَموَالِهِمْ حَقٌّ ان کا حق ہے ان کے مال میں جن کو خدا نے دیا۔مختلف طریقوں سے دیا کسی کو تجارت کا ملکہ دیا کسی کو زراعت کرنے کی صلاحیت عطا کی۔کسی کو استعداد میں دیں اور صلاحیتیں دیں علوم کے حاصل کرنے میں مختلف طریقوں سے اس نے فضیلت حاصل کی اور اموال اکٹھے کئے۔خدا کہتا ہے صرف تم اس کے حق دار نہیں بہت سارے اور حقوق ہیں جو تمہارے مال کے اندر ہم نے جمع کئے ہوئے ہیں اور یہ بتا دوں ضمناً کہ خدا تعالیٰ نے ضرورت اور حاجت اور بھک منگا ہونے کا تصور نہیں ہمیں دیا بلکہ غریب کا حق قائم کیا ہے اور یا یہ شخص جو مالدار ہے فَضْلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بعض کے گروہ والا خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے یہ خود ان کے حقوق ادا کرے گا یا خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جو تنظیمیں ہیں یا جو حکومتیں ہیں یا جو اقتدار ہیں وہ ان کو حقوق دیں گے۔جہاں سے میں نے شروع کیا تھا لوٹ کے پھر وہیں آ گیا۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے دولتمند اور صاحب ثروت بنایا ہے ان کے اموال میں ہر اس شخص کا حق ہے جو اپنے رب کے قائم کردہ حقوق سے محروم ہے۔خواہ وہ اس حقیقت سے واقف ہو، خواہ اس کا علم اس کو نہ ہو ہر صورت میں اس کا حق خدا تعالیٰ نے قائم کر دیا ہے۔۔۔۔قرآن کریم یہ کہتا ہے اصل تو یہ ایک فقرہ ہے جس کے لئے میں نے یہ خطبہ آج پڑھا ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جب انسانوں کے ایک طبقہ کو ان کے مناسب حال اور متوازن غذا نہ ملے اور اس سے وہ محروم ہوں تو سب دولتمند ان کے برابر لا کے کھڑے کر دیئے جائیں۔وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ میں بڑا عظیم اعلان ہوا ہے۔خدا یہ کہتا ہے کہ اگر مثلاً کوئی ملک اس کو ہم کہتے ہیں جیم ہر نام لے دیتے ہیں۔اس کی اسی فیصد آبادی جو ہے اس کو مناسب حال متوازن غذ انہیں ملتی تو جب تک اس طبقہ کو مناسب حال متوازن غذا نہیں ملتی کسی امیر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان سے بڑھ کے کھائے۔وہاں لا کے کھڑا کر دیا جائے گا کہ جیسا یہ کھائے گا ویسا وہ کھائے گا۔تمام امرا اور دولتمند صاحب ثروت جو ہیں ان کو دکھ اور تکلیف میں غریب کے کندھے سے کندھا ملا کے کھڑا کر کے سو فیصد ان کا شریک حال بنادیا۔شریک غم بنا دیا ان کا اور ان امیر کو یہ کہا ہم نے تمہیں بڑا دیا۔جب ان کو مناسب حال متوازن غذا مل جائے پھر اپنی مرضی کی کھا۔تیرے اوپر کوئی پابندی نہیں۔بعض دوسری ( Extreme) پر چلے گئے ہیں۔خیالات فلاسفی ، ازم جو ہیں وہ کہتے ہیں کسی کو بھی اس کی مرضی کا