انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 403
۴۰۳ سورة النحل تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث نہیں کھانے دیں گے۔یہ غلط ہے۔قرآن کریم کہتا ہے فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ ہر شخص کو اس کا حق ادا کرو۔پھر جوز ائد تمہارے پاس ہے پھر اپنی مرضی چلا لو اس کے اندر اور پھر جب اپنی مرضی چلانے کا وقت آئے گا پھر خدا کہتا ہے جب اپنی مرضی چلا رہے ہو تو اپنی عارضی خوشیوں کا خیال رکھنے کی بجائے اپنی ابدی خوشیوں کا خیال رکھو۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۲۳۷ تا ۷ ۲۴) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میں نے تمہارے لئے حلال رزق کے سامان اور وسائل پیدا نہ کئے ہوتے اور شیطان تمہیں بہکا دیتا تب تو شاید تمہارا کوئی عذر ہو جاتا لیکن رَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبت میں نے طیب رزق کے بے حساب سامان تمہارے لئے پیدا کئے ہیں اگر تم میرے اس عظیم اقتصادی نظام کے بعد بھی ناجائز باتوں کو اور ناجائز اختلافات سے مال اکٹھا کرنا چاہو یا دوسروں کی چیزوں سے ان کی اجازت کے بغیر فائدہ حاصل کرنا چاہو تو یہ درست نہیں ہے افَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ کیا ایسے لوگ ایک ہلاک ہونے والی باطل چیز پر انحصار رکھتے ہیں اور ان کا یہ ایمان ہے کہ دنیا کی ضرورتوں کو اس قسم کے باطل افعال پورا کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ نے جو قو تیں اور استعدادیں انہیں دی ہیں اور ان کے لئے رزق طیب کے جو سامان پیدا کئے ہیں ان سے وہ انکار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ تم رزق طیب کے حصول کے سامان پیدا کرو اور اس کے نتیجہ میں روحانی طور پر تم میری برکات کے وارث بنو گے لیکن تم اس کا انکار کرتے ہو، تم اس کا کفر کرتے ہو تم ناشکری بھی کرتے ہو اور اس کی طرف متوجہ بھی نہیں ہوتے پھر تم اللہ تعالیٰ کے غضب سے کیسے بچ سکتے ہو۔ہر احمدی بھائی کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے دوسرے بھائی کو اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچانے کی کوشش کرے اور جماعت کے نظام کا یہ فرض ہے کہ اس قسم کے باطل افعال کو رو کے چند دنوں کے لئے اور وقتی طور پر تکلیف ہوگی لیکن میں کسی کا رازق نہیں، نہ کوئی اور شخص دوسرے کا رازق ہے رازق تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس نے یہ کہا ہے کہ حلال اور طیب راہوں سے اموال کماؤ اور اسی نے یہ فرمایا ہے کہ رزق حلال اور رزق طیب کے سامان میں نے پیدا کئے ہیں اور بے شمار پیدا کئے ہیں اور خدا یہ کہتا ہے کہ اگر تم طیب رزق کے حصول کی راہوں کو چھوڑو گے، غلط قسم کے تصرفات سے ناجائز ، عارضی اور ہلاک ہونے والا فائدہ حاصل کرو گے تو تم خدا تعالیٰ کے ناشکرے بندے بن جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تم سے ناراض ہو جائے گا اور ہم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس سے یا