انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 33 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 33

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۳ سورة المائدة جماعت یا جو صاحب اقتدار اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کو چھوڑ کے کوئی اور حکم جاری کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے احکام کے خلاف فیصلے کرتا ہے۔فَأُولَبِكَ هُمُ الْكَفِرُونَ۔ان آیات میں مَنْ لَمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ الله کے چار نتایج بیان کئے گئے ہیں۔( تین آیات ہیں) کفر کے دو معنی ہیں انکار کے اور ناشکری کے تو جو شخص مَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ اللَّہ تعالیٰ نے انسان کی بھلائی کے لئے جو کچھ اتارا ہے۔ان احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ ناشکرا بنتا ہے اور یا وہ خدا تعالیٰ کا منکر بنتا ہے اور قرآن کریم نے ہر دو کے متعلق سزاؤں کا ذکر خود بیان کیا ہے۔تو یہاں یہ بتایا گیا کہ دیکھو اگر تم خدا تعالیٰ کے احکام کے خلاف اپنی زندگی کے فیصلے کرو گے تو اللہ تعالیٰ کا تمہارے ساتھ سلوک وہ ہوگا جو قرآن کریم کہتا ہے کہ ایک کافر سے ہوا کرتا ہے۔تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سلوک وہ ہو گا جو قرآن کریم کہتا ہے کہ ایک ناشکرے کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔ان آیات میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے بڑے تفصیلی حکم دے دیئے۔جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، زخم کے بدلے اس قسم کی سزا اس کو ہو جائے۔تفصیلی معین احکام بیان کر دیئے ہیں۔معاشرہ کو بُرائیوں سے بچانے کے لئے اور امن کو قائم کرنے کے لئے مَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ - پہلے تفصیل بیان کی حکم کی۔پھر اصول بیان کیا جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے۔فَأُولَبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ اُن کی زندگی ویسی بن جائے گی جیسی قرآن کریم کے مطابق ظالموں کی زندگی ہوا کرتی ہے۔ظلم کے معنے ہیں کہ جس جگہ کوئی چیز ہونی چاہیے وہاں نہ رکھنا اس کو جس کا حق ہے وہ لے لینا۔جو طاقت مثلاً ایٹم میں رکھی انسانیت کی بھلائی کے لئے انسان کی ہلاکت کے لئے اُسے استعمال کرنا۔تو جب بھی تم احکام الہی کو توڑو گے، تمہاری زندگی ظالم اور مظلوم والی زندگی بن جائے گی۔فأوليكَ هُمُ الظَّلِمُونَ تو جہاں ظالم ہے وہاں مظلوم بھی تو ہے۔کسی ظالم نے کسی پر ظلم بھی کیا ہے نا۔تمہارا معاشرہ احسان کرنے والے اور شکر گزار بندوں کا نہیں ہوگا بلکہ ایک حصہ ظلم کر رہا ہوگا ایک حصہ ظلم سہ رہا ہوگا اور ظلم سہنے والا حصہ جب اس کو موقع ملے گا وہ ظالم بن جائے گا اور ایک دوسرا حصہ ظلم سہنے والا بن جائے گا اور اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے متعلق جوسز اقرآن کریم میں بتائی ہے وہ تو بہر حال اس کو ملنی ہے لیکن اس معاشرے میں بھی ایک گند پیدا ہوگا۔